انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 272

انوار العلوم جلد ۱۴ ایک رئیس سے مکالمہ بنے ان کو بھی دنیا سے محبت نہیں ہوتی بلکہ اگر ان سے خدا تعالیٰ کروڑوں روپیہ کا مطالبہ کرے اور وہ ان کے پاس ہو تو وہ خوشی سے اس کو حاضر کر دیتے ہیں۔چنانچہ تاریخوں میں آتا ہے۔ایک جنگ کے موقع پر حضرت عمر نے ارادہ کیا کہ وہ قربانی میں حضرت ابو بکڑ سے بڑھ جائیں گے۔اس سے پہلے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کبھی اپنے گھر سے نصف مال نہیں لائے تھے اس کو دیکھتے ہوئے حضرت عمرؓ نے آدھا مال گھر سے لا کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا لیکن ان کے آنے سے پہلے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنا مال لا چکے تھے۔اور وہ مال اس قدر تھا کہ اسے دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے حضرت ابو بکر سے پوچھا۔گھر میں کیا چھوڑ آئے ہو؟ حضرت ابو بکر نے جواب دیا جو کچھ گھر میں تھا، وہ سب یہاں لے آیا ہوں اور اب اللہ اور اس کے رسول کا نام ہی گھر میں چھوڑ آیا ہوں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو محبت کی وجہ سے حضرت ابو بکر کو بڑھا کہا کرتے تھے ورنہ وہ چند سال ہی ان سے بڑے تھے یہ دیکھ کر کہنے لگے اس بڑھے نے تو مجھے شکست دیدی اور یہ ہمیشہ ہی مجھ سے بڑھ جاتا ہے۔پھر جمع دولت کے لحاظ سے اگر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب عبد الرحمن بن عوف فوت ہوئے تو اڑھائی کروڑ روپیہ کی جائیداد انہوں نے چھوڑی کے لیکن اگر اللہ تعالیٰ ان سے یہ بھی طلب کرتا تو وہ خوشی سے ساری جائیداد پیش کر دیتے۔غرض اصل میں ساری دُنیوی ترقیات خدا تعالیٰ ہی دیتا ہے اور دعا کے ذریعہ اخلاص کا پتہ لگتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ انسان کے اخلاص کا پتہ بھی لگ سکتا ہے جب اس کے اندر طاقت ہو۔اگر ایک نامردا پنی عصمت کا اور نا بینا بد نظری سے بچنے کا دعویٰ کرے۔یا ایک بے دست و پا آدمی یہ کہے کہ میں نے اپنی ساری عمر میں کسی کو نہیں مارا تو ان کا یہ دعویٰ محض عبث ہو گا۔جب ان میں گناہ کرنے کی طاقت ہی نہیں تو ان کا پاکیزگی یا پر ہیز گاری کا دعوی کرنا بالکل فضول ہے۔غرض انابت الی اللہ کے ماتحت بار بار دعا کر کے انسان کو چاہئے کہ وہ خدا کی طرف جُھکا رہے۔اور اگر کسی کے پاس لاکھوں روپیہ ہے اور اس کو پانچ روپے کی ضرورت پڑ گئی ہے تو وہ یہ نہ کہے کہ مجھے روپیہ کی کیا پروا ہے میرے پاس لاکھوں روپے ہیں وہ ایماندار تبھی کہلائے گا جب وہ کہے گا کہ میرا یہ کام خدا تعالیٰ ہی کرے گا روپیہ پر میرا کوئی اعتبار نہیں۔میرا تو کل خدا تعالیٰ کی ذات پر ہے۔