انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 252

انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایات دیا اور اُس نے خیال کیا کہ مجھے انگریزوں سے لڑائی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔پھر اُس نے حکومت ایران کو لکھا ، پھر اُس نے ترکوں کو لکھا کہ بے شک ہندوستان ایک غیر ملک ہے لیکن یاد رکھو! اگر ہندوستان سے اسلام مٹا تو تمہاری حکومتیں بھی مٹ جائیں گی۔مگر انہوں نے بھی انکار کر دیا ، تب وہ اکیلا انگریزوں سے لڑا۔اور جب وہ انگریزوں سے لڑ رہا تھا تو اُس کے اپنے بعض جرنیلوں نے پیچھے سے قلعہ کے دروازے کھول دیئے اور انگریز اندر داخل ہو گئے اُس کا ایک وفادار جرنیل دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ انگریز قلعہ کے اندر داخل ہو گئے ہیں۔وہ اُس وقت دو فصیلوں کے درمیان لڑ رہا تھا، بھاگنے کا کوئی راستہ نہ تھا کیونکہ باہر بھی انگریزی فوج تھی اور اندر بھی۔وہ ابھی آپس میں بات ہی کر رہے تھے کہ اتنے میں انگریز افسر آ پہنچا اور اس نے فصیل کی دوسری طرف سے آواز دی کہ ہمیں اپنے ہتھیار دے دو، ہم تم سے عزت کا سلوک کریں گے۔اُس وقت ٹیپو نے جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ اُس نے تلوار سونت لی اور یہ کہہ کر انگریزوں پر ٹوٹ پڑا کہ گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے اور مارا گیا۔بے شک اس سے ٹیپو کی بہادری اور جرأت ظاہر ہوتی ہے مگر اس میں ٹیپو کی قوم کی کوئی عزت نہیں۔بے شک میسور کی عزت اس واقعہ سے بلند ہو گئی مگر مسلمانوں کا وقار کھویا گیا، بے شک ٹیپو ہمیشہ کیلئے زندہ ہو گیا، مگر کیا ٹیپو کے زندہ ہونے سے مسلمانوں یا ہندوؤں کو کوئی فائدہ پہنچا؟ اگر آج میسور کے لوگ ٹیپو کے کارنامہ پر اپنا فخر جتائیں ، اگر آج ہندوستان کے باشندے ٹیپو کے کارنامہ پر اپنا فخر جتائیں تو ان سے زیادہ بے غیرت اور کوئی نہیں ہوگا کیونکہ وہ خود اُس کی فتح کے راستہ میں حائل ہوئے انہوں نے اُس سے غداری کی اور اُسے دشمنوں کے نرغہ میں اکیلا چھوڑ دیا۔پس بے شک ٹیپو سلطان کیلئے یہ ایک فخر کی بات ہے مگر ہندوستانیوں کا اس میں کوئی فخر نہیں، مسلمانوں کا اس میں کوئی فخر نہیں اور میسور کے لوگوں کا اس میں کوئی فخر نہیں۔اس کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہؓ نے جو قربانیاں کیں وہ صرف اُن لوگوں کیلئے ہی باعث فخر نہ تھیں جنہوں نے قربانیاں کیں بلکہ ساری قوم اس فخر میں شریک تھی کیونکہ وہ ساری قوم ان قربانیوں کیلئے تیار تھی۔قرآن کریم خود شہادت دیتا اور فرماتا ہے۔مِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّنْ يَنتَظِرُ خدا تعالیٰ کی راہ میں مرنے والے مر گئے مگر یہ نہ سمجھو کہ وہ مر گئے تو باقی قوم یونہی رہ گئی بلکہ وہ قوم بھی موت کا انتظار کر رہی ہے اور دیکھ رہی ہے کہ کب خدا تعالیٰ کی راہ میں اسے اپنی قربانی پیش کرنے کا موقع ملتا ہے یہ وہ چیز