انوارالعلوم (جلد 14) — Page 244
انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایات پس میں اس وقت اُن مبلغوں کو بھی جو امریکہ جا رہے ہیں اور اُن مبلغین کو بھی جو مغرب میں موجود ہیں بغیر کسی خاص مبلغ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ مغرب میں تبلیغ اسلام کیلئے جانے والا اگر اپنے فرائض میں کوتاہی کرتا ہے تو میرے نقطۂ نگاہ سے وہ کوئی قربانی نہیں کر رہا إِلَّا مَا شَاءَ الله - اور اِلَّا مَاشَاءَ اللہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ بعض ایسے بھی ہو سکتے ہیں کہ جن کے ذاتی حالات ایسے ہوں کہ وہ باہر جانا پسند نہ کرتے ہوں، ایسے لوگوں کو منتقلی کرتے ہوئے کہ وہ بہت ہی کم ہوتے ہیں، عموماً یورپین ممالک میں جانے والوں کے متعلق ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ قربانی کر رہے ہیں۔یوں تو انسان جب اپنے گھر سے باہر نکلتا ہے طبعی طور پر تھوڑی دیر کیلئے اسے تکلیف ہوتی ہے۔کانووکیشن دربار میں جب بادشاہ اپنے سر پر تاج رکھوانے کیلئے جاتے ہیں تو بعض کی آنکھوں میں اُس وقت بھی آنسو آ جاتے ہیں مگر وہ آنسو عارضی ہوتے ہیں اور تھوڑی دیر کے بعد ہی وہ ہشاش بشاش ہو جاتے ہیں۔پس سوال اُن آنسوؤں کا نہیں ہوتا جو روانگی کے وقت کسی شخص کی آنکھ سے ٹپکیں بلکہ سوال یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد اس کی کیا حالت ہوتی ہے۔لڑکیوں کی جب شادی ہوتی ہے تو عموماً گھر سے روتی ہوئی جاتی ہیں مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ قربانی کر رہی ہیں۔صرف اس لئے کہ اُس وقت ان کے غم کے جذبات ہیں۔جس وقت لڑکیوں کے آنسو بہہ رہے ہوتے ہیں ان آنسوؤں کے پیچھے ایک تسلی بھی موجود ہوتی ہے۔اسی طرح جب کوئی مبلغ گھر سے روانہ ہو گا قدرتی طور پر اُسے اپنے والدین اور رشتہ داروں کی جدائی کا غم ہو گا مگر یہ صدمہ اور غم بھی زیادہ تر اُسی جگہ جانے میں ہوتا ہے جہاں جان کے متعلق کسی قسم کے خطرات ہوں لیکن جہاں جان کے متعلق کوئی خطرہ نہ ہو وہاں یہ صدمہ اور غم بھی بہت ہلکا ہوتا ہے اور محض اس کو دیکھ کر کوئی نہیں کہ سکتا کہ بیخص قربانی کر رہا ہے۔غرض جہاں جہاں ہمارے مبلغ اس اصول کے ماتحت تبلیغ کریں گے انہیں گو ابتدا میں تکلیف ہوگی اور لوگوں سے اپنے عقائد منوانے مشکل ہوں گے مگر آخر وہ اپنا دبدبہ اور رُعب قائم رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور جو جماعت ان کے ذریعہ قائم ہوگی وہ صحیح اسلامی جماعت ہوگی۔اور اگر کسی ملک کا ہدایت پانا اللہ تعالیٰ کے حضور مقدر ہی نہیں تو ہم کون انہیں ہدایت دینے والے ہیں۔پس جو مبلغ اس وقت جا رہے ہیں ان کو بھی اور جو پہلے سے وہاں موجود ہیں اُن کو بھی میں کہتا ہوں کہ اگر وہ اسلام کی تبلیغ کرنے کیلئے مغربی ممالک میں جاتے ہیں تو انہیں اسلام کی تعلیم پر وہاں عمل کرنا چاہئے اور اسلامی عقائد ان لوگوں کے دلوں