انوارالعلوم (جلد 14) — Page xxvi
انوار العلوم جلد ۱۴ تعارف کتب اعتراض یہ تھا کہ وہ احمدی نواز ہیں اس طرح وہ انہیں ذلیل کر کے لوگوں کی نظروں سے گرانا چاہتے تھے۔یہ اُس وقت الزام لگایا جب وہ گورنمنٹ کے عہدہ سے الگ ہو کر پنجاب میں بیماری کی حالت میں آ بیٹھے تھے۔اب بظاہر اُن کے لئے دوبارہ کوئی عہدہ حاصل کر کے پھر عزت حاصل کرنا ناممکن تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے غیر معمولی حالات پیدا کر دئیے اور انہیں وفات سے تین ہفتہ قبل پنجاب کا وزیر تعلیم بنا دیا اور انہیں اس قدر عزت دی کہ ان کی وفات سے چند دن پہلے ایک ہند و اخبار نے لکھا کہ اصل میں ہندوستان پر سرمیاں فضل حسین صاحب حکومت کر رہے ہیں کیونکہ پنجاب میں وہ خود ہیں۔گورنمنٹ آف انڈیا میں سر ظفر اللہ خان ان کی طرف سے مقرر ہیں اور ولایت میں سر فیروز خان نون ہیں۔ان کی پارٹی کے اور بھی لوگ ہیں جو بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔پس اگر چہ وہ احمدی نہ تھے مگر چونکہ احمدیت کی خاطر لوگوں کی طرف سے اُن پر اعتراض کیا گیا اور انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں اپنی غیرت کا مظاہرہ کیا اور انہیں غیر معمولی طور پر عزت کے ایک مقام پر پہنچا کر بتادیا کہ جو شخص احمدیت کیلئے اپنی عزت کو خطرہ میں ڈالنے کے لئے تیار ہو جائے اللہ تعالیٰ اس کے لئے بھی اپنی غیرت کا اظہار کیا کرتا ہے۔(۱۷) مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایات پیشگوئی مصلح موعود میں ایک یہ علامت بیان کی گئی تھی کہ وہ زمین کے کناروں تک شُہرت پائے گا اور قو میں اُس سے برکت پائیں گی۔حضرت مصلح موعود کو شروع سے ہی غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کا بے حد شوق تھا۔چنانچہ آپ نے احمدی مبلغین کو ساری دنیا میں پھیلا دیا۔۲۱۔اکتوبر ۱۹۳۶ ء کو دو مبلغین سلسلہ کے اعزاز میں جو خدمت دین کے لئے امریکہ بھجوائے جا رہے تھے ایک الوداعی تقریب منعقد کی گئی اس موقع پر آپ نے تحریک جدید کے طلباء سے خطاب فرمایا جس میں مبلغین اور طلباء کو نہایت ضروری اور قیمتی ہدایات سے نوازا۔آپ نے فرمایا کہ مغربی ممالک آرام و آسائش کے اعتبار سے زیادہ بہتر اور ترقی یافتہ ہیں ہر کوئی وہاں جانا چاہتا ہے اس لئے اپنے وطن کو چھوڑ کر ان ممالک میں جانا تو کوئی قربانی نہیں بلکہ مغربی ممالک میں جا کر اسلامی شریعت پر مضبوطی سے قائم ہونا، وہاں کے اثرات اور غالب