انوارالعلوم (جلد 14) — Page 215
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید ایک قطرہ ہے۔۔۔دوسری آنکھ زخمی ہوئی اور مجھے اس کی تکلیف کا اتنا احساس ہے لیکن آج اسلام کا کونسا حصہ سلامت ہے اس کا ماتھا بھی اُڑ گیا، اس کا سر بھی اُڑ گیا ، اس کا ناک بھی اُڑ گیا، اس کے کان بھی اُڑ گئے ، اس کے کلے بھی پچک گئے ، اس کی گردن بھی کاٹی گئی ، اس کا سینہ بھی چھلنی کیا گیا اور اس کے ہاتھ اور اس کے پاؤں کو بھی کاٹ کر اس کا قیمہ کر کے رکھ دیا گیا۔اس بے کا رانسان کے قلیل زخم کو دیکھ کر جب انسانی دل تڑپ اُٹھتا ہے تو کیا اسلام کے ان گہرے زخموں کو دیکھ کر جن سے اس کا کوئی حصہ بھی محفوظ نہیں ، کوئی درد مند انسان ہے جو نہ تڑپے۔اسلام سچائیوں کا نام ہے اور سچائی تمام چیزوں سے بالا مجھی جاتی ہے۔لیکن اگر اسلام میں دماغ ہوتا ، اگر اسلام میں قوت متفکرہ ہوتی ، اگر اسلام کے پاس سوچنے والا دل اور بولنے والی زبان ہوتی ، تو وہ خدا کے عرش کے سامنے کھڑا ہو کر کہتا کہ کاش! تو مجھے ایک انسان ہی بنا دیتا جس کے زخم دیکھ کر لوگ تڑپ تو اُٹھتے۔تو نے مجھے سچائی بنایا جس کی وجہ سے میرے زخموں کو کوئی نہیں دیکھتا۔میرے زخموں کو دیکھ کر کسی کے دل میں درد پیدا نہیں ہوتا مگر یہ حالت کن کی ہے؟ ان لوگوں کی جو مادی دنیا کے مشاغل میں مبتلا ہیں، جنہیں روحانی نظریں حاصل نہیں ، جو روحانی کیفیتوں سے اندوز سیاہی لطف اندوز نہیں ہو سکتے ، جنہیں قرآن کے اوراق محض کا غذا اور اس کے حروف محض سیا ہی نظر آتے ہیں ، جن کو قرآن کا حسن صرف اتنا ہی نظر آتا ہے کہ اسے کسی اچھے کا تب نے اعلیٰ خط میں لکھا، ان کو اس قرآن کے وہ زخم نظر نہیں آتے جو اسے لگے ہوئے ہیں، نہ انہیں اسلام کے وہ زخم دکھائی دیتے ہیں جو اس کے ہر حصہ پر دشمنوں نے لگائے مگر وہ جن کی روحانی آنکھیں کھلی ہیں ، جنہیں روحانی خوبصورتی نظر آتی ہے وہ اسلام کے اس دکھ کو بھی محسوس کرتے ہیں ، وہ قرآن کے ان زخموں کو بھی دیکھتے ہیں۔قرآن کریم میں ہی آتا ہے کہ قیامت کے دن محمد خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہونگے اور اُس سے رقت بھرے لہجہ میں کہیں گے۔يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَدَ الْقُرْآنَ مَهْجُورًا۔اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو پیچھے پھینک دیا۔لوگوں کو لہلہاتے ہوئے سبزوں کی خوبصورتیاں نظر آئیں، بل کھاتے ہوئے دریاؤں نے ان کی آنکھوں کو خیرہ کیا ، چمکتی ہوئی بجلیاں اور کڑکتے ہوئے بادل ان کی دلجمعی کا باعث بنے، پہاڑوں کی سرسبزیاں اور ان کی شادابیاں ان کے دلوں کی راحت کا موجب ہوئیں ،مرنے والا انسان جو ہزاروں گندگیاں اپنے اندر رکھتا ہے، آنکھ کی اچھی بیٹھک یا ناک کی اچھی بیٹھک کی وجہ سے ان کا محبوب و مطلوب بن گیا مگر کسی نے توجہ نہ کی تو سارے حسہوں