انوارالعلوم (جلد 14) — Page 212
انوار العلوم جلد ۱۴ صلى الله تحریک جدید ایک قطرہ ہے۔خدا تعالیٰ کیلئے قربان نہیں کرو گے، جب تک تم اپنے مال کو خدا تعالیٰ کیلئے قربان نہیں کرو گے، جب تک تم اپنی عزتوں کو خدا تعالیٰ کیلئے قربان نہیں کرو گے، جب تک تم اپنی اولا د کو خدا تعالیٰ کیلئے قربان نہیں کرو گے، جب تک تم اپنی دوستیوں کو خدا تعالیٰ کیلئے قربان نہیں کرو گے، جب تک تم اپنی عادات کو خدا تعالیٰ کیلئے قربان نہیں کرو گے، جب تک تم اپنی رسوم کو خدا تعالیٰ کیلئے قربان نہیں کرو گے اور جب تک ہر دروازہ فرشتوں کیلئے کھول نہیں دو گے ، اُس وقت تک تمہیں جنت میسر نہیں آ سکتی۔یہ کوئی نیا پیغام نہیں جو میں نے دیا۔حضرت آدم بھی یہی پیغام لائے تھے ، حضرت نوح بھی یہی پیغام لائے تھے حضرت ابراہیم بھی یہی پیغام لائے تھے ، حضرت موسیٰ بھی یہی پیغام لائے تھے ، حضرت عیسی بھی یہی پیغام لائے تھے اور محمد ﷺ بھی یہی پیغام لائے تھے اور محمد ﷺ کا پیغام قیامت تک کیلئے ہے جسے کوئی بدل نہیں سکتا۔انسانی چیزوں اور خدائی چیزوں میں فرق یہی ہے کہ انسان کی چیز پرانی ہو جاتی ہے مگر خدا تعالی کی چیز پرانی نہیں ہوتی۔انسان کپڑے پہنتا ہے جو چند دنوں کے بعد میلے ہو جاتے اور کچھ عرصہ کے بعد پھٹ جاتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ غلہ پیدا کرتا ہے، وہ انسان کھاتا ہے جس کا کچھ حصہ پاخانہ بن کر زمین میں چلا جاتا اور پھر اس کے ذریعہ اور غلہ پیدا ہو جاتا ہے۔پھر انسان کی بنائی ہوئی چیز مولد نہیں ہوتی۔مگر خدا تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیز مولّد ہوتی ہے تمہارے لٹھے کا ایک تھان پانچ تھان نہیں بن سکتا لیکن خدا تعالیٰ کا ایک دانہ ستر دانے بن جاتا ہے۔اسی طرح وہ دانہ پُرانا بھی ہوتا ہے اور جدید بھی۔ایک ہی وقت میں وہ پرانا ہوتا ہے اور اُسی وقت میں وہ جدید بھی ہوتا ہے۔وہ دانہ جو ہم آج کھاتے ہیں کیا اپنے اندر وہی جزو نہیں رکھتا جو حضرت آدم کے وقت کا دانہ رکھتا تھا؟ پھر وہی آدم کے وقت کا دانہ تھا جو نوح کے زمانہ میں لوگوں نے کھایا اور وہی نوح کے زمانہ کا دانہ تھا جو حضرت ابراہیم کے زمانہ میں لوگوں نے کھایا۔کیا حضرت ابراہیم کے وقت کا دانہ آسمان سے اُترا تھا ؟ کیا وہ اسی دانہ سے نہیں نکلا تھا جو حضرت نوح نے کھایا اور جو حضرت آدم نے کھایا۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ آیا تو اُس وقت بھی وہی دانہ تھا جو حضرت ابراہیم کے وقت تھا۔اور وہی خواص اس کے اندر تھے جو حضرت ابرا ہیم کے وقت اس کے اندر موجود تھے۔پس وہ قدیم بھی تھا اور جدید بھی تھا۔بعض انسانوں کی عقل سے تلعب کرنے کیلئے تم بے شک اسے نیا کہہ سکتے ہو، بعض انسانوں کی عقل سے تلعب کرنے کیلئے تم بے شک اسے پرانا کہہ سکتے ہو مگر خدا کیلئے نہ وہ نیا تھا نہ پرانا۔بعض