انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxv of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page xxv

انوار العلوم جلد ۱۴ ۱۹ تعارف کتب جماعت کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا جس دشمن سے ہمارا واسطہ ہے اُس کی ہیبت سے ہر نبی نے اپنی قوم کو ڈرایا ہے اس کا حملہ اس قدر خوفناک ہے جس سے اسلام کا حلیہ بگڑ گیا ہے۔لوگ اپنی معمولی تکلیفوں سے پریشان ہو کر دعاؤں کے لئے لکھتے ہیں مگر انہیں اسلام کی اس تکلیف کا احساس نہیں جس پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔حضور نے قرآن کریم سے بے اعتنائی کا ذکر بھی بڑے درد کے ساتھ فرمایا اور جماعت کو نهایت درد مندی سے دعائیں کرنے اور اسلام کی زندگی اور قرآن کی زندگی کے لئے ہر قسم کی قربانیاں پیش کرنے کی نصیحت کی اور فرمایا:۔تحریک جدید تو ایک قطرہ ہے اُس سمندر کا جو قربانیوں کا تمہارے سامنے آنے والا ہے۔جو شخص قطرہ سے ڈرتا ہے وہ سمندر میں کب گود کے۔۔۔ابھی تو اس سمندر میں تمہیں تیرنا ہے۔جس سمندر میں تیرنے کے بعد دنیا کی اصلاح کا موقع تمہیں میسر آئے گا۔(۱۶) سرمیاں فضل حسین صاحب کی المناک وفات پر خطاب سرمیاں فضل حسین صاحب کی وفات پر مؤرخہ ۱۰ جولائی ۱۹۳۶ء کو حضور نے انہیں خراج تحسین سے نوازا اور ان کی موت کو مخالفین احمدیت کے لئے ایک نشان قرار دیا۔آپ نے ہندوستان کی سیاست خصوصاً پنجاب کی سیاست کے حالات بیان فرمائے کہ پنجاب کو کچھ حقوق ملنے پر بعض مخالف لوگ ( جن میں کانگرس اور مجلس احرار بھی شامل ہے ) سیخ پا ہیں۔اس لئے خدشہ ہے کہ پنجاب کے آئندہ حالات نہایت خطرناک ہوں اور مسلمان لیڈر آپس میں اُلجھ پڑیں۔ان حالات میں میاں فضل حسین صاحب کی ذات ایسی تھی جو مسلمان لیڈروں کو قابو میں رکھنے اور انہیں میانہ روی پر چلانے کی اہل تھی ان کی وفات کی وجہ سے پنجاب کے مسلمانوں کی سیاسی دنیا میں ایک بہت بڑا شقاق پیدا ہو گیا ہے۔حضور نے دعا کی تحریک فرمائی کہ اللہ تعالی سیاسی حالات ٹھیک کر دے اور دنیا میں امن قائم ہو تا ہماری تبلیغ میں کسی قسم کی رُکاوٹ پیدا نہ ہو۔حضور نے فرمایا کہ میاں فضل حسین صاحب پر ہمارے مخالفین کی طرف سے بہت بڑا