انوارالعلوم (جلد 14) — Page 191
انوار العلوم جلد ۱۴ ہر پیشہ سیکھنے کی کوشش کی جائے کو چیں یورپ کی بنی ہوئی استعمال کی جاتی ہیں اور بعض کو چوں کی قیمت کئی کئی سو تک ہوتی ہے۔اسی طرح عمارتی کاموں میں بھی بعض ٹکڑے بنے بنائے ولایت سے آتے ہیں مگر یہ پیشہ پھر بھی ایک حد تک محفوظ رہا ہے۔باقی رہا چمڑے کا کام، اس کا بیشتر حصہ ولایت چلا گیا تھا مگر اب واپس لوٹ رہا ہے۔پہلے تمام چیزیں چمڑے کی ولایت سے بن کر آتی تھیں مگر اب ہندوستان کے بعض شہروں مثلاً کا نپور وغیرہ میں چمڑے کی بہت اشیاء تیار کی جاتی ہیں۔تاہم چمڑے کی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو یورپ سے تیار ہو کر ہندوستان آتی ہیں۔اور یورپ والے ان کے ذریعہ روپیہ کما رہے ہیں۔یورپ میں جوتیاں بنانے والے ہمارے ہاں کے موچیوں کی طرح نہیں سمجھے جاتے بلکہ ان کی وہی قدر و منزلت ہوتی ہے جو وہاں بڑے بڑے لارڈوں کی ہوتی ہے بلکہ وہاں تو ایسے لو ہار یا بوٹ میکر ہیں جو لارڈ ہیں اور ان کی بہت عزت کی جاتی ہے۔ان میں سے جب کوئی ہندوستان آتا ہے تو وائسرائے کا مہمان ہوتا ہے۔اور راجے ،نواب بھی اس کے آگے پیچھے پھرتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی آمد نیوں کو محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں غیر محدود بنا لیا ہے اور ان کے پیشے اپنی غیر محدود آمدنیوں اور وسیع پیمانے پر ہونے کی وجہ سے معزز تصور ہو رہے ہیں۔مگر ہندوستان میں وہی پیشے قلیل آمدنیوں کی وجہ سے ذلیل سمجھے جاتے ہیں۔یہاں ایک اور عجیب رواج بھی ہے۔اور دراصل ہندوستانیوں کو اسی کی سزامل رہی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک پیشہ ور انسان اپنے پیشہ کو ذاتی جائیداد تصور کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ صرف اپنے بیٹے کو وہ پیشہ سکھا دے، کسی دوسرے کو وہ سکھانا پسند نہیں کرتا۔اسلام نے اسے قطعاً پسند نہیں کیا کہ کوئی شخص کسی کام کو اپنی ذاتی جائیداد بنا کر بیٹھ جائے۔یورپ میں ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی خاندان سارے کا سارا بوٹ بنانے والا نہیں ہو گا۔اگر باپ بوٹ میکر ہوگا تو بیٹا کیمیا کے علم کا ماہر ہو گا۔پوتے کپڑا بنانے کا کام کرتے ہوں گے اور پڑپوتے کسی فرم میں حصہ دار ہوں گے۔غرض ایک ہی کام نہیں ہوگا جس میں وہ سارے کے سارے لگے ہوئے ہوں گے مگر ہمارے ملک نے سمجھ رکھا ہے کہ پیشے ذاتی جائیداد ہوتے ہیں اور وہ اپنے خاندان تک ہی محدود رہنے چاہئیں کسی اور کو نہیں سکھانے چاہئیں۔اس کے دو بہت بڑے نقصان یہ ہیں۔ایک انفرادی اور دوسرا قومی۔قومی نقصان تو یہ ہے کہ اگر بیٹا جب لائق نہ ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ فن گر جائے گا اور اس طرح قوم کو نقصان پہنچے گا۔دوسرا نقصان یہ ہے کہ باپ سے بیٹے کو اور بیٹے سے پوتے کو جب وہ کام ورثہ میں ملے گا تو ان کے نام کے ساتھ ایک اور چیز جسے پنجابی میں