انوارالعلوم (جلد 14) — Page 185
انوار العلوم جلد ۱۴ ہر پیشہ سیکھنے کی کوشش کی جائے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ہر پیشہ سکھنے کی کوشش کی جائے ( تقریر فرمود ۲۵ مارچ ۱۹۳۶ء بر موقع افتتاح سکول دار البرکات قادیان) تشهد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔آج آپ لوگوں کو یہاں آنے کی اس لئے تکلیف دی گئی ہے کہ میرا منشاء ہے آج ہم دعا کر کے اس صنعتی سکول کا افتتاح کریں جس کا اعلان میں پہلے کر چکا ہوں۔دنیا میں تعلیم اور صنعت و حرفت علیحدہ علیحدہ تنگ دائروں میں تقسیم ہو سکتی ہے۔ورنہ بڑے بڑے دائرے تو صرف دو ہی ہیں۔جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔علم دو ہیں۔عِلمُ الا ذيان اور عِلمُ الابدان یا یعنی ایک علم وہ ہے جو دین کو نفع دیتا ہے اور دوسرا علم وہ ہے جو جسم کو نفع دیتا ہے۔لوگوں نے اس علم کے معنی طب کے بھی کئے ہیں۔بیشک طب بھی اس سے مراد ہوسکتی ہے لیکن اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر وہ علم جس کا مادیت کے ساتھ تعلق ہو۔پس رسول کریم ﷺ نے در حقیقت علم کی تعریف یہ فرمائی ہے کہ جو روح یا جسم کو فائدہ دے۔جو علم روح یا جسم کیلئے فائدہ مند نہیں وہ علم نہیں کھیل ہے اور اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔وہ علم جو روح کو نفع دے وہ تو اس وقت دینِ اسلام ہی ہے کیونکہ باقی دین اس قابل نہیں کہ وہ روح کو کوئی فائدہ پہنچاسکیں۔روحانی لحاظ سے صحیح طور پر اور ہر ضرورت کے موقع پر نفع دینے والی چیز صرف اسلام ہے۔باقی رہا عِلمُ الابْدَان ، اس علم کا تعلق مختلف پیشوں سے ہے، پیشے تو لاکھوں ہیں ، لیکن وہ چونکہ ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اس لئے بڑے بڑے پیشے چند ہی ہیں۔مثلاً ایک پیشہ وہ ہے جس سے انسان کی زندگی کا بڑا تعلق ہے اور وہ زراعت ہے۔زراعت کے ذریعہ غلہ وغیرہ اور ایسی چیزیں پیدا کی جاتی ہیں جن پر انسان کی زندگی کا دار ومدار ہے۔اس کے بعد دوسری چیز جسم کو ڈھانکنے کا سوال ہے۔اس کیلئے کپڑا بننے والے کی ضرورت ہے