انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 182

انوار العلوم جلد ۱۴ اہالیانِ سندھ و کراچی کے نام پیغام بائی سلسلہ عالیہ احمدیہ کو چڑھنا پڑا اور اسی پر ہم چڑھ رہے ہیں۔میں مانتا ہوں کہ اختلاف کلی طور پر نہیں مٹ سکتا مگر میرے دل میں کبھی کسی ہندو سکھ یا عیسائی کیلئے نفرت پیدا نہیں ہوئی۔میں اس معاملہ میں یہاں تک تیار ہوں کہ اپنے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کبھی کسی ہندو، عیسائی یا سکھ کو نفرت کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔میری عمر اس وقت ۴۷ سال ہے مگر اس میں سے ایک لحظہ بھی ایسا نہیں گزرا جس میں میرے دل میں کسی شخص کے متعلق دشمنی کے جذبات پیدا ہوئے ہوں۔مگر مخالفتوں کی صلیب ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے بغیر کامیابی ناممکن ہے۔تمام ترقیات مشکلات میں سے گزر کر حاصل ہوتی ہیں۔پس میں اہلِ سندھ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ مذہبی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کریں۔مذہب کے متعلق بیشک غیرت رکھو لیکن عقائد کے لحاظ سے نہ کہ انسانوں کے لحاظ سے۔عیب دار سے نفرت کرنا ظلم ہے ہاں عیب سے نفرت کرنی چاہئے۔جب جسمانی بیمار کی ہمدردی ضروری ہے تو روحانی بیمار کا تو اور بھی زیادہ خیال ہونا چاہئے۔میں سمجھتا ہوں کہ وقت کی رعایت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس وقت میں نے کافی کہہ دیا ہے پھر کبھی اگر موقع ملا تو تفصیلی طور پر بیان کرسکتا ہوں۔جب ہمارا اللہ جو سارے جہانوں کا مالک ہے تمام لوگوں کا رب بنتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان سے نفرت کا اظہار کریں۔اگر ہم اپنے رب کے نقش قدم پر چلنے والے ہوں تو ہمارا فرض ہے کہ دوسروں کی عزت کریں اس نصیحت کے بعد میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں۔الفضل ۲۶ - فروری ۱۹۳۶ء ) ۱۷ - فروری ۸ بجے شام کلا رنی ہوٹل میں جماعت احمد یہ کراچی کی طرف سے حضرت خلیفة امسیح الثانی کے اعزاز میں ایک شاندار ڈنر دیا گیا۔جس میں ہندو، مسلم اور عیسائی ہر طبقہ کے معزز اصحاب شامل تھے۔قاضی خدا بخش صاحب میئر آف کراچی، ڈاکٹر شراف صاحب چیف آفیسر رائے بہادر ، سیٹھ شورتن مہتہ ، مسٹر حویلی والا ایڈیشنل جوڈیشل کمشنر، مسٹر ڈی۔پی۔دستور، مسٹر حکم داس دا دھول ایکس میئر ، ڈاکٹر سعید ،مسٹر حاتم اے علوی ، مسٹر حاتم طیب بی بارایٹ لاء ، مسٹر محمد اسلم بار ایٹ لاء، ڈاکٹر ہنگورانی ، ایڈیٹر ڈیلی گزٹ