انوارالعلوم (جلد 14) — Page xxii
انوار العلوم جلد ۱۴ ۱۶ تعارف کنند کتب کہ یہ چھوٹا صوبہ بڑا بن جائے اور دوسروں کے لئے نمونہ ہو“۔( ۱۳ ) ہر پیشہ سیکھنے کی کوشش کی جائے علوم ظاہری و باطنی سے پُر ہونے والے وجود سید نا حضرت مصلح موعود نے جماعت کی دینی و دنیاوی ہر لحاظ سے بہترین رہنمائی فرمائی۔آپ نے جہاں جماعت سے بریکاری ختم کرنے کی تحریک فرمائی وہاں صنعت و حرفت کیلئے قادیان میں صنعتی سکول کا قیام فرمایا۔اس سکول کے افتتاح کے موقع پر آپ نے ۲ مارچ ۱۹۳۶ ء کو یہ خطاب فرمایا۔آپ نے آنحضور ﷺ کی حديث الْعِلْمُ عِلْمَانِ عِلْمُ الادْيَانِ وَ عِلْمُ الأَبْدَان کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا۔رسول کریم ﷺ نے در حقیقت علم کی تعریف یہ فرمائی ہے کہ جو روح یا جسم کو فائدہ دے“۔عِلمُ الابدان کے تعلق میں آپ نے درج ذیل ۸ بنیادی شعبوں کا ذکر فر ما یا جن پر باقی تمام شعبوں کا انحصار ہے۔ا۔زراعت ۲۔کپڑے کی صنعت ۳ معماری ۴۔لوہاری ۵ - نجاری ۶ علم کیمیا علم طب۔چمڑے کا کام۔فرمایا:۔ان آٹھ پیشوں کو جو قوم جان لیتی ہے وہ اپنی ضروریات کے لئے دوسروں کی محتاج نہیں رہتی۔۔اس کے علاوہ آپ نے تجارت کے پیشہ پر بھی روشنی ڈالی اور نئی تجارتی اشیاء دریافت کرنے کی طرف توجہ دلائی۔حضور نے علم طب سیکھنے کی طرف بھی توجہ دلائی اور فرمایا:۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ تم قرآن شریف اور بخاری اور طب پڑھ لو۔حضور نے فرمایا کہ ہندوستان میں بظاہر ہرادنی شعبوں کو ذلیل سمجھا جاتا ہے اور ہندوستان کے زوال کی ایک بڑی وجہ یہی ہے۔اسی لئے اہلِ مغرب ان شعبوں پر غالب آئے ہوئے ہیں۔حضور نے ہندوستان میں اس رواج کی بھی حوصلہ شکنی فرمائی کہ بعض خاندان بعض خاص پیشیوں کو اپنا لیتے ہیں۔اس طرح وہ پیشے اُن کی قومیت بن جاتے ہیں۔اس لئے آپ نے سکول کا اجراء