انوارالعلوم (جلد 14) — Page 173
انوار العلوم جلد ۱۴ حقیقت حال سے پُر ہوں گے۔اسی طرح ایک ایک کر کے مختلف مسائل کو لیا جائے تو یقیناً نہ تو حکومت مُہلت کا مطالبہ کر سکتی ہے اور نہ اسے اس چھوٹے سے امر کیلئے ساری اسلامی طاقت کا مقابلہ کرنے کی جرأت ہو سکتی ہے۔۔اسمبلی بھلی یا بُری جلد بننے والی ہے۔بعض ساتھی بعض حکام سے مل کر کوشش کر رہے ہیں کہ ووٹروں کی فہرست ایسی بنوائیں کہ جس سے ان کی پارٹی کو طاقت حاصل ہو جائے۔آپ کو چاہئے کہ اس کا تندہی اور عظمندی سے مقابلہ کریں اور اپنے ووٹروں کی لسٹ مکمل کروائیں۔تا کہ اگر اسمبلی پر قبضہ کرنے کی تجویز ہو جو میرے نزدیک ضروری ہے، تو آپ ایسا کر سکیں۔ورنہ اگر کانفرنس نے اسمبلی پر قبضہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا تو ووٹروں کی فہرست کے نقائص کی وجہ سے آپ لوگ زیادہ ہو کر بھی کم نظر آئیں گے۔۔چھٹی بات آپ کے آئندہ پروگرام میں یہ ہونی چاہئے کہ جن حکام نے قانون شکنی کر کے ظلم کیا ہے ان کے خلاف کارروائی کریں۔میرے نزدیک ہر جگہ تحقیقاتی کمیٹیاں مقرر ہو جانی چاہئیں جو گواہیاں لے کر ظالم حکام کے خلاف مصالح جمع کریں۔جب یہ مواد جمع ہو جائے ، ہم إِنْشَاءَ اللہ لائق وکلاء سے مشورہ لے کر جہاں جہاں حکام پر مقدمات چلائے جاسکیں گے، مقدمات چلائیں گے۔اگر اس طرح ہم بعض حکام کو سزا دلوانے میں کامیاب ہو گئے تو ایک تو حکام کے ظلم کا ثبوت مل جائے گا۔دوسرے آئندہ ظلم کے لئے حکام کو ظلم کرنے کی جرات باقی نہ رہے گی۔یہ تو میرے نزدیک آپ لوگوں کیلئے موجودہ حالات میں بہترین پروگرام ہے۔جو کام ہمیں کرنا چاہئے اور ہم انشَاءَ اللہ اسے کریں گے، وہ یہ ہے:۔ا۔باہمی جھگڑوں کی وجہ سے عوام اور خواص دونوں کو کشمیر کے معاملہ سے دلچسپی نہیں رہی۔ہمارا سب سے پہلا کام یہ ہونا چاہئے کہ حکمت عملی سے اس طرف پھر لوگوں کی توجہ پھیری جائے تا اس بارے میں مسلمانوں کی متفقہ آواز اُٹھے۔۲۔سول نافرمانی کی وجہ سے حکومت کی ہمدردی جاتی رہی ہے۔حالانکہ عوام میں سے اکثر اور خواص میں سے بھی بعض اس تحریک کے مخالف تھے۔پس چاہئے کہ حکومت کا نقطہ نگاہ پھر درست کیا جائے۔گو یہ کام موجودہ حالات میں بہت مشکل ہے لیکن مشکل کام بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہو جاتے ہیں۔ہمیں اس طرف سے مایوس نہیں ہونا چاہئے اور میں خیال کرتا ہوں