انوارالعلوم (جلد 14) — Page xviii
انوار العلوم جلد ۱۴ ۱۲ تعارف کت سادہ زندگی اپنانے ، بیکاری ترک کرنے ، قادیان میں چھوٹی صنعتیں لگانے تبلیغ کے لئے وقف کرنے کی طرف خصوصیت سے توجہ دلائی اور فرمایا:۔جو سیکم میں نے تمہیں بتائی ہے وہ نہ صرف تباہی کے سامانوں سے خالی ہے بلکہ ترقی کے انتہاء تک پہنچانے والی ہے“۔آخر میں حضور نے جماعت کو قربانی کے لئے تیار رہنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:۔جب تک دنیا ہمارے خون سے رنگین نہ ہو جائے ، جب تک زمین میں ہمارے جسموں کو کچلا نہ جائے ، جب تک ہمیں خدا تعالیٰ کے لئے اپنے وطن نہ چھوڑنے پڑیں ، جب تک دنیا میں ہم اپنی جانی اور مالی اور وقتی قربانیوں سے ایک حیرت انگیز انقلاب پیدا نہ کر دیں اور جب تک ہم وہ ساری قربانیاں نہ کریں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے کیں اُس وقت تک ہمیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔“ (۹) دنیا کی سیاسیات میں احمدیت کیا تغیر پیدا کرنا چاہتی ہے یہ حضور کے اُس خطاب کا خلاصہ ہے جو آپ نے ۲۷ دسمبر ۱۹۳۵ ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر فرمایا:۔اُن دنوں احرار کا فتنہ زوروں پر تھا۔گورنمنٹ نے انہیں قادیان میں جلسہ کرنے کی اجازت دیکر اسے ہوا دی۔عام مسلمان چندہ سے ان کی مدد کرنے لگے۔ان حالات میں احرار چاہتے تھے کہ قادیان میں شورش اور فساد بپا ہو اس لئے حضور نے احباب جماعت کو نصیحت فرمائی کہ وہ ان فتنہ پردازوں سے محتاط رہیں۔اس کے بعد حضور نے دنیا کی سیا سیاست میں احمدیت کیا تغیر پیدا کرنا چاہتی ہے کے عنوان پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا جب دنیا کے بادشاہ احمدیت میں داخل ہوں گے تو انہیں صحیح اسلامی تعلیم سے آگاہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ آج ہم قرآنی تعلیم سے اخذ کر کے وہ فرائض اپنی کتابوں میں لکھ دیں جس پر عمل کر کے دنیا میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔حضور نے لیگ آف نیشنز کے قیام اور نا کامی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا۔لیگ آف نیشنز دنیا میں امن قائم کرنے میں ناکام رہی اور اب نہ صرف عام لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ لیگ ایک کھلونا ہے بلکہ جو حکومتیں اس میں شامل ہیں وہ بھی