انوارالعلوم (جلد 14) — Page 126
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت کے متعلق یہ کہنا کہ وہ کہاں سے دے بیوقوفی نہیں تو اور کیا ہے۔جب میں نے یہ شرط رکھی ہے کہ وہی شخص اس چندہ میں حصہ لے جو پہلے انجمن کے چندے ادا کرے اور آئندہ کے متعلق وعدہ کرے کہ میں اپنے شوق سے اس قدر رقم دینے کیلئے تیار ہوں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس شرط کے بعد جو شخص تحریک جدید میں چندہ لکھواتا ہے، وہ کہتا ہے کہ مجھ میں یہ طاقت ہے کہ بقائے ادا کروں ، مجھ میں یہ طاقت ہے کہ مستقل چندے دوں اور مجھ میں یہ طاقت ہے کہ ان تمام چندوں کے باوجود تحریک جدید میں اس قدر حصہ لوں۔پس کیا عجیب بات نہیں کہ تحریک جدید میں حصہ لینے والا اپنے منہ سے تو اپنی حالت کے متعلق یہ خبر دیتا ہے کہ مجھ میں ان تمام چندوں کی ادائیگی کی طاقت ہے اور منافق کہتا ہے کہ وہ دے کہاں سے۔یہ تو ایسی ہی مثال ہے جیسے ہماری پنجابی زبان میں کہتے ہیں ”گھروں میں آیاں سنی ہے تو دیویں“۔یعنی گھر سے تو میں آیا ہوں اور وہاں کی خبریں تم بتاتے ہو۔پس اگر میری شرط کے باوجود چندہ لکھوانے والا سچا ہے تو منافق کا یہ کہنا کہ وہ کہاں سے دے بیوقوفی ہے۔اور اگر وہ جھوٹا ہے تو جھوٹے کے ہم ذمہ وار کس طرح ہو سکتے ہیں۔پھر یا د رکھنا چاہئے کہ جو خرچ کرنے والا حکم تھا اسے تو میں نے نفلی رکھا ہے اور میں نے کہ دیا کہ خواہ ایک شخص کی لاکھ روپے ماہوار آمد ہو اور وہ تحریک جدید میں حصہ نہ لینا چاہے تو بے شک حصہ نہ لے۔لیکن جو آمد بڑھانے والا حکم تھا ، اسے میں نے واجب کر دیا ہے۔چنانچہ میں نے کہا کہ سینمانہ دیکھو یہ جبری حکم ہے۔اور اس طرح جو کچھ بچا وہ گو یا جبری طور پر میں نے ان لوگوں کو دیا جو سینما دیکھا کرتے تھے۔پس جو کچھ میں نے مانگا وہ نفلی ہے اور جو میں نے بچا کر دیا وہ واجب ہے۔اس کے باوجود اگر کوئی شخص اعتراض کرتا ہے تو وہ سوائے منافق کے اور کون ہوسکتا ہے۔میرا دوسرا جواب یہ ہے کہ جو شخص یہ پوچھتا ہے کہ ایسا شخص چندہ دے گا کہاں سے۔میں اسے کہتا ہوں کہ وہ ایمان سے دے گا۔ایک بے ایمان انسان یہ دیکھا کرتا ہے کہ فلاں کی جیب میں کیا ہے؟ لیکن ایک ایماندار شخص یہ نہیں دیکھا کرتا کہ میری جیب میں کیا ہے بلکہ وہ اپنے دل کو دیکھتا ہے اور خدا تعالیٰ سے اسے ایسا تعلق ہوتا ہے کہ وہ کہتا ہے جب میں قربانی پر آمادہ ہوں گا تو میرا خدا مجھے دے گا۔صحابہ کو دیکھو ان کی کیا حالت تھی۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے چندے کا اعلان کیا۔ایک صحابی نے اس اعلان کو سنا تو اُٹھ کر باہر چلے گئے۔اور ٹوکری اُٹھا کر کہنے لگے میں مزدوری کرنا چاہتا ہوں۔مجھے جو بھی کوئی شخص مزدوری دے میں وہ لینے کیلئے تیار