انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 113

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت نہیں آ سکتا۔اب تو پہرے والے کسی کو آگے آنے نہیں دیتے لیکن اس سے پہلے دبانے کی مشق ہمیشہ مجھ پر ہوا کرتی تھی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو میں نے دیکھا ہے آپ کئی دفعہ نماز کے بعد جلدی گھر تشریف لے جاتے۔والدہ صاحبہ نے دریافت کرنا کہ اتنی جلدی آپ کیوں آگئے؟ تو آپ نے فرمانا ایک ایسا دبانے والا مجھے دبانے لگ گیا تھا کہ مجھے اس سے سخت تکلیف ہوئی مگر چونکہ مجھے منع کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی تھی ، اس لئے آپ ہی اُٹھ کر اندر چلا آیا۔مجھے خود بھی کئی دفعہ اسی طرح کی تکلیف ہوئی ہے۔حالانکہ یہی دبانے کا کمال جب کسی کو حاصل ہو جائے تو لوگ بڑے شوق سے اُسے دبانے کیلئے بلاتے ہیں۔لاہور میں ایک یوروپین ڈاکٹر تھا، اب تو وہ ولایت چلا گیا ہے ، وہ محض پندرہ روپیہ فیس اس بات کی لیا کرتا تھا کہ مریضوں کو دباتا اور اس عمدگی اور خوبی سے دباتا کہ محض دبانے سے کئی بیماریوں کا علاج کر دیتا۔تو ہر چیز مشق سے آتی ہے، اس کے بغیر نہیں آ سکتی۔حکومتیں چونکہ ان باتوں کو جانتی ہیں ، اس لئے وہ ہمیشہ اپنے سپاہیوں کو مشق کراتی رہتی ہیں۔لیکن جو اپنے سپاہیوں کو مشق کرانا چھوڑ دیں ، ان کا سوائے اس کے کیا نتیجہ ہو سکتا ہے کہ دشمن حملہ کر کے ان کے ملک پر قابض ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ ایک بادشاہ کو خیال آیا کہ بلا ضرورت فوجوں پر جو روپیہ خرچ کیا جاتا ہے ، اس کی کیا ضرورت ہے۔اگر ملک پر کبھی دشمن نے حملہ کیا تو سارے قصابوں کو بلا کر میدان جنگ میں بھیج دیا جائے گا کہ جاؤ دشمن کا مقابلہ کرو۔چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور فوجیوں کو ملازمت سے برطرف کر کے گھر بھیج دیا۔جب دشمنوں کو پتہ لگا کہ بادشاہ نے ایسا عقلمندی کا حکم دیا ہے تو جھٹ انہوں نے حملہ کر دیا۔بادشاہ نے حکم دیا کہ فوراً قصابوں کو جمع کر کے میدانِ جنگ میں بھیج دیا جائے۔جب قصاب میدانِ جنگ میں گئے اور دشمن نے انہیں تلواروں سے ہلاک کرنا شروع کیا، تو وہ یک دم بھاگ کر بادشاہ کے دربار میں پہنچے اور کہنے لگے انصاف، انصاف، دہائی، دہائی!۔بادشاہ نے پوچھا کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا۔حضور! وہاں کوئی انصاف نہیں ہو رہا۔کہنے لگا کس طرح ؟ انہوں نے کہا ہم با قاعده دو تین آدمی مل کر ان کے ایک آدمی کو پکڑتے اور اُسے لٹاتے ہیں، پھر چھری چلا کر اسے ذبح کرتے ہیں۔مگر وہ اتنے میں ہمارے پچاس آدمی مار دیتے ہیں۔بھلا یہ بھی کوئی انصاف کی بات ہے۔تو مشق اور مسلسل مشق کے بغیر کوئی کام نہیں آ سکتا اور اگر کوئی سمجھتا ہے کہ مجھے مشق کی ضرورت نہیں لیکن وقت پر میں کام کرلوں گا تو وہ اپنے نفس کو دھوکا دیتا ہے۔