انوارالعلوم (جلد 14) — Page 45
انوار العلوم جلد ۱۴ احرار خدا تعالیٰ کے خوف سے کام لیتے ہوئے مباہلہ کی۔۔جماعت احمدیہ سے مخصوص ہو۔ہر جماعت کا یہی حال ہے کوئی قوم بھی نہیں کہہ سکتی کہ ہمارے ہر مصنف یا خطیب کی تحریر یا بات قابل قبول ہے۔الله اور اس وجہ سے تمام فرقے قابل حجت صرف اپنے سلسلہ کے بانی کی کتب کو تسلیم کرتے ہیں یا ایسے آئمہ کو جن کو وہ خالی از خطا سمجھتے ہوں اور اس بحث میں نہیں پڑتے کہ بعض اور قابل اعتبار علماء بھی ہو سکتے ہیں۔مثلاً مسلمان غیر قوموں سے بحث کے وقت صرف قرآن کریم پر انحصار رکھتے ہیں۔دوسری سب کتب کی نسبت کہتے ہیں کہ صحیح ہونگی تو تسلیم کریں گے ورنہ نہیں۔کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے گا کہ مسلمانوں کے نزدیک سب بزرگوں نے جھوٹ بولا ہے۔( نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِکَ) مثال کے طور پر یہ بات لے لیجئے کہ مظہر علی صاحب جس فرقہ سے یعنی شیعہ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور سنی بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔اب اگر کوئی عیسائی ایک مسلمان پر یہ اعتراض کرے کہ تمہارے رسول کریم ( نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِکَ ) لوگوں سے ڈر کر خدا تعالیٰ کے احکام کو چُھپا لیا کرتے تھے اور اس کی تائید میں وہ اظہر صاحب کے ہم مذہبوں کی معتبر کتاب تفسیر صافی کا حوالہ صفحہ ۱۶۷ سے دے کہ آنحضرت ﷺ کو جب حضرت علی کی ولایت کے اعلان کا حکم ہوا تو آپ نے نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِکَ لوگوں سے ڈر کر اس حکم کو چھپا یا۔تو اب بتائیں کہ ایک مسلمان کے لئے اس کے سوا کیا چارہ ہے کہ وہ کہے کہ اظہر صاحب یا ان کے ہم مذہبوں نے اگر غلطی کی ہو تو اسلام اس کا ذمہ وار نہیں ہمارے لئے تو قرآن کریم حجت ہے اور وہ تو رسول کریم ﷺ کی نسبت فرماتا ہے کہ۔اِنَّکَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ لے کہ سب اعلیٰ اخلاق به حد کمال تیرے اندر پائے جاتے ہیں۔پس قرآن کریم کی اس شہادت کے بعد ہم ایسی خرافات کو کب تسلیم کر سکتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ لوگوں سے خوف کھا کر احکام الہی کو چھپا لیتے تھے خواہ یہ قول احرار کے سیکرٹری کا مذہب ہو یا اس کی جماعت کا یا مثلاً اگر کوئی کینہ ور دشمن یہ اعتراض کرے کہ مسلمانوں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِكَ قرآن کریم محرف و مبدل ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ مجلس احرار کے سیکرٹری مسٹر مظہر علی صاحب اظہر کا جس فرقہ سے تعلق ہے ان کی کتابوں میں یہ لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر حضرت عمر وَغَيْر هُمْ کو قرآن کریم بطور امانت دیا گیا تھا۔حَرَّفُوهُ وَبَدَّلُوهُ انہوں نے نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِكَ اس میں تحریف کر دی اور اسے بدل دیا۔جس کی وجہ سے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ( نَعُوذُ بِاللهِ