انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 42

انوار العلوم جلد ۱۴ کو عام اعلان کے ذریعہ سے واپس لیں ۔ احرار خدا تعالیٰ کے خوف سے کام لیتے ہوئے مباہلہ کی۔ ۴۔ مجلس احرار ہمیں یہ تحریری وعدہ دے کہ مباہلہ کے دن اور اس سے چار دن پہلے اور چار دن بعد کوئی اور جلسہ یا کانفرنس سوائے اس مجلس کے جو مباہلہ کے دن بغرض مباہلہ منعقد ہو گی، وہ منعقد نہیں کریں گے اور نہ جلوس نکالیں گے اور نہ کوئی تقریر کریں گے۔ اور یہ تحریر دو 66 مجاہد میں بھی شائع کر دی جائے ۔ ۵۔ یہ کہ ان کی طرف سے مباہلہ کرنے والوں کے سوا جن کی فہرست ان کو پندرہ دن پہلے سے دینی ہوگی کوئی شخص باہر سے نہ تحریری نہ زبانی بلا یا جائے گا۔ نہ وہ ( اس صورت میں کہ انہیں ہماری ضیافت منظور نہ ہو ) کسی کی رہائش کا یا خوراک کا جماعتی حیثیت میں یا منفردانہ حیثیت میں مذکورہ بالانو (۹) ایام میں انتظام کریں ۔ گے۔ مباہلہ کی جگہ پر مباہلہ کرنے والوں اور منتظمین اور پولیس کے سوا اور کسی کو جانے کی اجازت نہ ہوگی ۔ اگر وہ مذکورہ بالا باتوں پر عمل کرنے کے لئے تیار نہ ہوں تو ہر حق پسند شخص تسلیم کرلے گا کہ احرار کی نیت مباہلہ کی نہیں بلکہ اس بہانے سے قادیان میں کا نفرنس کرنے کی ہے۔ پس میں یہ واضح طور پر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس صورت میں ہم قادیان میں نہیں بلکہ گورداسپور یا لاہور میں مباہلہ کریں گے وہاں وہ بے شک جس قدر آدمیوں کو چاہیں ، بلا لیں گو اس صورت میں بھی مباہلہ کرنے والوں کے علاوہ دوسرے آدمیوں کو میدانِ مباہلہ میں آنے کی اجازت نہ ہوگی ۔ میرے اس اعلان کے بعد بغیر شرائط طے کئے کے اور بغیر ایسی تاریخ کے مقرر کئے کے جو دونوں فریق کی رضا مندی سے ہو اگر احرار ۲۳ نومبر یا اور کسی تاریخ کو قادیان آئیں تو اس کی غرض محض کا نفرنس ہوگی نہ کہ مباہلہ ۔ اور اس صورت میں اس کی ذمہ داری یا تو حکومت پر ہو گی یا احرار پر ۔ جماعت احمد یہ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہ ہوگی ۔ مباہلہ کے متعلق تو جو کچھ میں نے لکھنا تھا لکھ دیا ہے مگر میں ایک افتراء کی تردید ایک اور افتراء کی بھی جو مظہر علی صاحب اظہر نے میری نسبت کیا ہے تردید ضروری سمجھتا ہوں ۔ مسٹر اظہر صاحب نے اپنے جواب میں میرے خطبہ سے ایک فقرہ جو ذیل میں درج ہے۔ نقل کیا ہے ۔ تحریریں صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہوں، کسی اور