انوارالعلوم (جلد 14) — Page 35
انوار العلوم جلد ۱۴ احرار خدا تعالیٰ کے خوف سے کام لیتے ہوئے مباہلہ کی۔۔پانچ سو یا ہزار آدمی برا بر تعداد میں شامل ہوں۔۲۔مقامِ مباہلہ لاہور یا گورداسپور ہو لیکن بعد میں احرار کے اس مطالبہ پر کہ مقام مباہلہ قادیان ہو میں نے لکھا کہ اگر احرار کو لاہور یا گورداسپور پر کوئی خاص اعتراض ہو یا وہ قادیان میں اپنی شان دکھانا چاہتے ہوں تو قادیان ہی میں مباہلہ کیا جا سکتا ہے۔۔ایک کمیٹی دونوں فریق کی سب شرائط کو طے کرے اور اس کے فیصلہ کے بعد۔۴۔ایک تاریخ جو فیصلہ کے پندرہ دن بعد ہو مباہلہ کے لئے مقرر کی جائے میں نے اس امر پر روشنی ڈالی تھی کہ خالی منظوری کے اعلان سے ان امور پر روشنی نہیں پڑتی اور اس اعلان کی موجودگی میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ احرار نے میری سب شرطوں کو منظور کر لیا ہے۔پس دونوں فریق کے نمائندے غیر معتین شرائط کو معین کریں اور تفصیلات کو طے کریں اور پھر به تراضی فریقین مباہلہ کی تاریخ مقرر کی جائے۔ورنہ خود ہی تاریخ مقرر کر دینا شرائط کو ماننا نہیں ان کی بنسی اُڑانا ہے۔اس قدر واضح اعلان کے بعد بھی میں دیکھتا ہوں کہ احرار صحیح طریق پر نہیں آتے اور نہ جماعت احمدیہ کے نمائندوں کے خطوط کا جواب دیتے ہیں اور نہ اپنی طرف سے شرائط طے کرنے کے لئے نمائندے مقرر کرتے ہیں بلکہ صرف ”مجاہد اخبار میں اعلان کرتے چلے جاتے ہیں جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ کوئی معتین فیصلہ کرنا نہیں چاہتے۔میرے اشتہار کے جواب میں مسٹر مظہر علی صاحب اظہر نے جو بیان ”مجاہد “ میں شائع کیا ہے اور جو تقریریں انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے چنیوٹ میں کی ہیں ان میں جو باتیں انہوں نے بیان کی ہیں، وہ ذیل میں درج کر کے میں ان کا بھی جواب دے دیتا ہوں تا کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ احرار کن ہتھیاروں پر آگئے ہیں۔مسٹر مظہر علی صاحب نے چنیوٹ میں کیا شرائط کی منظوری اسی کا نام ہے؟ بیان کیا ہے کہ:- میں نے قادیان جا کر کہا تھا کہ مباہلہ قادیان میں ہونا چاہئے۔اور مرزا صاحب کی صداقت پر ہونا چاہئے اور مرزا محمود نے تسلیم کر لیا ہے۔“ ( مجاہد ۶ نومبر صفحه ۲ ) اس کے متعلق سید فیض الحسن صاحب سجادہ نشین آلومہار نے بھی اپنی تقریر میں چنیوٹ میں کہا ہے کہ:۔