انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page vii of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page vii

1 انوار العلوم جلد ۱۴ تعارف کتب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ تعارف کتب یہ انوارالعلوم کی چود ہو یں جلد ہے جو سید نا حضرت فضل عمر خلیفة المسیح الثانی کی مئی ۱۹۳۵ء سے ۲۷ دسمبر ۱۹۳۷ء بر ۱۹۳۷ ء تک کی اٹھائیس تحریرات وتقار و تقاریر مشتمل ہے۔ (1) احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہرگز کوئی کمزوری نہیں دکھا ئیں گے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے یہ معرکۃ الآراء اور ولولہ انگیز خطاب ۲۶ مئی ۱۹۳۵ ء کو ارشاد فرمایا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب جماعت کو شدید قسم کی مخالفت کا سامنا تھا۔ ایک طرف احرار کی مخالف تحریک اپنے زوروں پر تھی ۔ دوسری طرف انہوں نے بعض حکام کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا تھا اور جماعت اعت کو نقصان پہنچانے کے نت نئے منصوبے بنائے جا رہے تھے۔ پھر جماعت عت کے اندر بعض منافقین بھی اپنی رذیل سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ اس پر آشوب دور میں حضرت المصلح الموعود نے تحریک جدید کی بنیاد رکھی ۔ آپ کو القاء ہوا کہ ہر چھ ماہ بعد احباب کو تحریک جدید کے امور سے متعلق یاد دہانی کروائی جائے ۔ حضور فرماتے ہیں:۔ اس کے ساتھ ہی مجھے یہ خیال آیا کہ اس کے لئے پہلا دن اگر وہ دن ہو جس دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہوئے تھے تو یہ گویا ہمارے عہدوں کی تجدید کا نہایت لطیف موقع ہوگا۔ حضور کی اس خواہش کے مطابق ۶ ماہ بعد ۲۶ مئی کو اتوار کا دن تھا چنانچہ قادیان میں جلسہ کا