انوارالعلوم (جلد 14) — Page 26
بلس احرار کا مباہلہ کے متعلق ناپسندیدہ رویہ نا! انوار العلوم جلد ۱۴ معزز بجھتی ہے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی ذلت اور تباہی کی خواہاں ہے اور جماعت احمد یہ جوابی طور پر اس امر پر قسم کھائے گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعوی ہمیشہ رسول کریم ﷺ کی شاگردی اور غلامی کا رہا ہے اور یہی انہوں نے تعلیم دی ہے۔آپ رسول کریم ﷺ کے بچے عاشق اور خادم تھے اور آپ کی تعلیم کے مطابق جماعت احمد یہ بھی بحیثیت جماعت ، رسول کریم کو فضل الرسل اور سید ولد آدم بجھتی ہے اور بانی سلسلہ احمدیہ کو آپ کا شاگرد اور خلیفہ مھتی ہے نہ کہ مرتبہ کے لحاظ سے آپ کے برابر یا آپ سے بڑا۔اور دوسرے یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو دنیا کے سب مقامات سے زیادہ معزز سمجھتے تھے اور جماعت احمد یہ بھی ان مقامات کو دنیا کے سب مقامات سے اور قادیان سے زیادہ مکرم اور معزز مجھتی ہے اور ان مقامات کی عزت و احترام پوری طرح اس کے دل میں قائم ہے اور ان کی ہتک کو وہ اپنی عزت کی ہتک سے زیادہ بجھتی ہے اور ان کی حفاظت کے لئے ہر وہ قربانی جس کا شریعت مطالبہ کرے بفضلہ تعالیٰ کرنے کو تیار ہے۔برادران! باوجود اس چیلنج کے شائع ہونے کے، سوائے اس کے کہ بعض اشخاص احرار کی طرف سے قادیان آ کر تقریر کر گئے کہ احرار مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہیں، احرار نے اور کوئی قدم نہ اٹھایا۔تب میں نے اس خیال سے کہ شاید احرار کو یہ بُرا معلوم ہوا ہو کہ اخبار میں اعلان کر دیا گیا ہے اور ہمیں تحریراً مخاطب نہیں کیا گیا اپنے دوسرے خطبہ میں اپنی طرف سے شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ، چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹر ایم۔ایل سی اور مولوی غلام احمد صاحب مولوی فاضل مبلغ جماعت احمدیہ کو نمائندہ مقرر کر دیا کہ ان سے احرار کے نمائندے ضروری امور کا تصفیہ کر لیں اور شرائط کا تصفیہ ہو جانے کے پندرہ دن بعد مباہلہ ہو، تا مباہلہ کرنے والوں کو بر وقت اطلاع دی جا سکے۔ان لوگوں نے بذریعہ خطوط تمام ذمہ دار کارکنان احرار کو توجہ دلائی لیکن ان کا جواب اب تک نہیں ملا۔اس کے بعد مظہر علی صاحب اظہر کی طرف سے ۱۴۔اکتوبر کو مجھے یکدم تار ملی کہ مجلس احرار مباہلہ منظور کرتی ہے اور یہ کہ ۲۳۔نومبر کو مباہلہ ہوگا۔مجھے اس تارکو دیکھ کر نہایت حیرت ہوئی کہ خطوط کا جواب تک نہیں دیا جاتا ، شرائط کے متعلق کچھ لکھا نہیں جاتا اور ۲۳۔نومبر یعنی ایک ماہ سے زائد عرصہ کے بعد جس کام کی تاریخ مقرر کی جاتی ہے اس کی اطلاع بذریعہ تار دی جاتی ہے حالانکہ ایک رجسٹری خط کے ذریعہ سے یہ اطلاع آ سکتی تھی۔ان کی اس تار اور اس امر کو دیکھ کر کہ جو نمائندے مقرر کئے گئے تھے ان کے خطوط کا جواب