انوارالعلوم (جلد 14) — Page 570
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر میں کامیاب ہو گا جس طرح موسیٰ کو دکھ اور تکلیفیں پہنچیں ۔ دشمن کہتا ہے اور میدانوں میں ناچتا پھرتا ہے کہ اگر سلسلہ احمد یہ سچا ہوتا تو یہ ابتلاء کیوں آتے اور اتنے بڑے بڑے آدمی خلیفہ وقت پر الزامات کیوں لگاتے؟ مگر میں کہتا ہوں یہ ابتلاء اس کے سچا ہونے کی دلیل ہیں ۔ کسی تفصیل سے خدا کے مسیح نے خبر دی تھی کہ زینب جس کی شادی آپ کے زمانہ میں ہوئی ایک ایسے شخص سے بیاہی جانے والی ہے جو حضرت مسیح موعود کے اہلِ بیت پر الزام لگا کر آپ کو دکھ دے گا ۔ اس فتنہ کے دولیڈ ر ہوں گے ان لوگوں کو خلافت کے بارہ میں وہی اختلاف ہو گا جو خوارج کو تھا۔ وہ پہلے بیعت کر کے پھر خلیفہ کو گنہگار قرار دے کر علیحدہ ہوں گے ان کا پہلا حملہ اندازا ۲۷ سال بعد وفات حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہوگا ۔ اور ۳۰ سال بعد مسیح وہ اس کے خلیفہ کو قتل کرنا چاہیں گے لیکن ناکام رہیں۔ رہیں گے۔ کیا اس سے بڑھ کر کیا اس سے واضح کیا اس سے عیاں کوئی اور پیشگوئی ہو سکتی ہے؟ پھر یہ ابتلاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت ہوا یا آپ کے جھوٹا ہونے کی دلیل ۔ میں کہتا ہوں دیکھو کس طرح چھوٹے سے چھوٹے ٹکڑے اس خواب کے پورے ہوئے ہیں ۔ اس خواب میں بتایا گیا ہے کہ رسول کریم یا اس موقع پر تشریف لائے اور جیسا کہ میں نے اس فتنہ کے شروع میں شائع کر دیا تھا مجھے بھی ایک دن الہام ہوا کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۷۸ گو یا خواب میں جو آنحضرت ﷺ کے ورود مبارک کی خبر تھی وہ بھی اس الہام کے ذریعہ صلى الله عروس خدا تعالیٰ نے پوری کر دی اور بتاد کر دی اور بتا دیا کہ رسول کریم ﷺ آگئے ہیں ۔ پھر مجھے جو یہا کہ:۔ جو یہ الہام ہوا تھا میں تیری مشکلات کو دور کروں گا اور تھوڑے ہی دنوں میں تیرے دشمنوں کو تباہ کر دوں گا ۸۹ یہ بھی اسی قول کی طرف اشارہ ہے کہ يَا عَلِيٌّ دَعْهُمْ وَأَنْصَارَهُمْ وَزِرَاعَتَهُمْ یعنی خود ان کی باتوں پر صبر کرو اور قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لو اور خدا تعالیٰ پر معاملہ چھوڑ دو۔ سو خدا تعالیٰ نے مجھے کہا کہ میں خود اس معاملہ کا فیصلہ کروں گا اور ذَرُونِی اقْتُلُ مُوسٰی کے الہام سے بھی بتا دیا کہ حضرت علی کے زمانہ میں ان کی حکومت تھی انہوں نے خود سزا دی لیکن اس زمانہ میں خلیفہ موسیٰ کی طرح ایک اور حکومت کے تابع ہو گا اس لئے اس وقت کی سزا خود اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ میں رکھے گا ۔ پس جماعت کو اس بارہ میں بہت محتاط رہنا چاہئے اور کوئی خلاف قانون حرکت