انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 569

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر علیہ السلام نے پیشگوئی فرمائی کہ میں علی ہوں اور میرے خلاف خوارج کا ایک گروہ ظاہر ہوگا ۔ یہ گر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے عین اتنے سال بعد ظاہر ہو ا جتنے سال اس نے ضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات صلى الله - رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد لئے تھے ۔ پھر ایک اور مشابہت بھی ہے جو گوگلی مشابہت نہیں مگر ضمنی مشابہت ضرور ہے اور وہ یہ کہ سنہ کے لحاظ سے وہ فتنہ بھی ۳۷ ھ میں ظاہر ہوا اور یہ فتنہ بھی ۱۹۳۷ ء میں ظاہر ہوا۔ پانچویں زبر دست مشابہت یہ ہے کہ حضرت علیؓ پر قام یہ ہے کہ حضرت علی پر قاتلانہ حملہ عبد الرحمن بن ملجم خارجی نے ۴۰ھ میں اس الزام کے ماتحت کیا کہ انہوں نے ہمارے آدمیوں کو قتل کر دیا ہے اور یہ بعد وفات رسول کریم ﷺ تمہیں سال ہوتے ہیں گویا تمہیں سال بعد وفات رسول کریم صل الله حضرت علی صلى الله ملی ملجم سلام کی جان پر عبدا پر عبد الرحمن بن محجم نے اس لئے حملہ کیا کہ اُس نے ہمارے آدمیوں کو مروایا ہے ۔ بعینہ اسی طرح ۱۹۳۷ء میں تیس سال بعد وفات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام شیخ عبدالرحمن مصری نے میرے خلاف عدالت میں اس بناء پر قتل کا مقدمہ دائر کیا کہ اس نے ہمارے آدمی فخر الدین کو قتل کروایا ہے اور اس لئے اسے پھانسی کی سزاملنی چاہئے ۔ پس انہوں نے بھی وہی الزام لگایا ہے جو خارجیوں نے لگایا ، وہی چالیں چلی ہیں جو خارجیوں نے چلیں ، انہی حرکات کا ارتکاب کیا ہے جن حرکات کا خارجیوں نے ارتکاب کیا ، پس الزام ایک ہے، سنہ ایک ہے، چیز ایک ہے، وہاں قتل کرنے کرنے والا عبدال اعبد الرحمن بن ملجم ہے اور یہاں حکومت سے پھانسی کا مطالبہ کرنے ۔ : والا عبد الرحمن مصری ہے پھر پورے تیس سال کے بعد وہاں حملہ ہوا تھا اور پورے تیس سال کے بعد یہاں بھی حملہ ہوتا ہے اور اسی الزام کے ماتحت ہوتا ہے جو الزام خارجیوں نے حضرت علی پر لگایا۔ بیشک عبدالرحمن بن ملجم حجم اپنے حملہ میں کامیاب ہوا اور اس نے حضرت علیؓ کو شہید کر دیا اور عبدالرحمن مصری اپنے حملہ میں اب تک خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب نہیں ہوئے لیکن اس کی بھی ایک وجہ ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو رویا میں بتایا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خلافت پر جو حملہ ہو گا اس میں آپ کے قائم مقام کی حیثیت صرف علی کی نہیں ہو گی بلکہ موسیٰ کی بھی ہو گئی کیونکہ اس رؤیا کے ساتھ ہی الہام ہؤا کہ مخالف کہتا ہے ذَرُونِي اقْتُلْ مُوسی گویا بتا دیا کہ اسے علی کے ساتھ تمام مشابہتیں ہوں گی مگر جس وقت قتل کا حملہ ہوگا اُس وقت علیؓ ، موسیٰ بن جائے گا اور چونکہ موسیٰ کو قتل کرنے میں فرعون ناکام رہا تھا اس لئے اس حملہ میں اس زمانہ کا عبدالرحمن ناکام رہے گا۔ صرف درمیانی تکلیف اور ایذاء پہنچانے