انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 564

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر (۵) البہیہ۔ان کا عقیدہ ہے کہ مسلمان مشرک ہیں۔ان کو قتل کرنا اور ان کی اولا دوں کو قتل کرنا جائز ہے مگر ان میں رہنا نا جائز نہیں اور نہ ان سے نکاح جائز ہے اور نہ ان کا ورثہ لینا۔اس کے بعد ان کے اور فرقے ہو گئے۔چنانچہ ایک فرقہ العجاورۃ ہے جس کا یہ خیال ہے کہ سورہ یوسف قرآن کا حصہ نہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سورہ یوسف میں وہ بتین دلیل موجود ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ کا فر بادشاہ کے ماتحت رہنا بھی جائز ہے مگر چونکہ ان کا عقیدہ اس کے خلاف تھا اس لئے یہ کہا کرتے تھے کہ یہ پرانا قصہ ہے قرآن کا حصہ نہیں۔یہ لوگ اپنے بچہ کو بھی کافر کہتے ہیں جب تک بڑا نہ ہوا اور اسے تبلیغ کر کے مسلمان نہ کریں۔ان لوگوں کا سورہ یوسف کا انکار بھی اسی غلطی سے پیدا ہوا ہے کہ کفار کے علاقہ میں نہیں رہنا۔چونکہ سورہ یوسف اس خیال کو ر ڈ کرتی ہے اس لئے انہوں نے اس کے قرآن کا جُز و ہونے سے بھی انکار کر دیا۔نجد یہ فرقہ کا عقیدہ ہے کہ صغائر گناہ کا بہ تکرار مرتکب اگر کبائر کا بہ تکرار مرتکب نہ بھی ہو تب بھی کافر ہے۔تقیہ جائز سمجھتے ہیں اور دشمنوں کے اموال کو جائز۔اور جو جائز نہ مانے وہ کافر۔ثعالبہ فرقہ کا خیال ہے کہ بچہ کی حکومت جائز ہے مگر بڑا ہو کر حق کے خلاف چلے تو اسے الگ کیا جائے۔بہیہ کا دعویٰ ہے کہ امام کافر کے ماتحت جو رہے وہ بھی کافر ہی سمجھا جائے گا۔یعنی دلی مرضی سے نہ کہ تقیہ سے جیسا کہ وہ خود کرتے ہیں۔جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے خوارج کا طریق عمل یہ تھا کہ :۔(۱) وہ مخفی رہتے۔چنانچہ بار بار مختلف زمانوں میں وہ ظاہر ہوئے۔حضرت عثمان کے وقت میں بھی مخفی رہے۔حضرت علیؓ کے زمانہ میں بھی اور معاویہ کے زمانہ میں بھی۔(۲) مسلمانوں پر اور خصوصاً خلفاء پر الزام لگا کر بدنام کرتے کہ وہ بدکار تھے۔چنانچہ حضرت علی پر بھی ان کا یہ الزام ہے اور دوسرے مسلمانوں پر بھی۔چنانچہ وہ مسلمانوں کو ملین کہتے تھے جس کے معنی ہیں حلال سمجھنے والے اور اس نام کی وجہ تسمیہ وہ یہ بتاتے تھے کہ یہ لوگ جس جان کو خدا نے حرام کیا ہے اسے حلال سمجھتے ہیں اور لوگوں کے مال کھا جاتے ہیں اور عورتوں کی عصمت خراب کرتے ہیں۔اور مال جمع کرنا حرام ہے۔یہ مال جمع کرتے ہیں اور جہاں بیت المال کا مال خرچ کرنا چاہئے وہاں خرچ نہیں کرتے ناجائز جگہ پر خرچ کرتے ہیں۔