انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 544

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر نماز پڑھ رہا ہے۔ یہ دیکھ کر ان کے دل میں خوف پیدا ہوا اور اُس کے قتل کی انہوں نے جرات نہ کی ۔ پھر حضرت علی کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ میں اُسے ضرور قتل کروں گا چنانچہ انہوں صلى الله عروسه تر نے اسے ڈھونڈا مگر وہ نہ ملا۔ رسول کریم ﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ اگر یہ شخص آج مارا جاتا تو اسلام میں آئندہ کبھی فتنہ پیدا نہ ہوتا اور خدا تعالیٰ کے دین کے بارے میں کبھی اختلاف پیدا نہ ہوتا ۔ مگر اب اس قسم کے لوگ جو اس شخص کے طریق کی اتباع کرنے والے ہوں گے امت محمد یہ میں پیدا ہوں گے ۔ وہ بظاہر بڑے دیندار ہوں گئے بڑی بڑی لمبی نمازیں پڑھنے والے ہوں گے مگر وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے ۔ اگر میرے زمانہ میں پیشخص ہلاک ہو جاتا تو آئندہ اس سے نفاق کا سلسلہ نہ چلتا مگر اب معلوم ہوتا ہے کہ کسی زمانہ میں اسی قسم کے لوگوں کی وجہ سے اسلام میں فتنہ پیدا ہونے والا ہے ۔ - خوارج کی فتنہ انگیزیوں کی تفصیل اب ہم دیکھتے ہیں کہ خوارج کون تھے؟ خوارج کا گروہ در حقیقت انفرادی طور پر حضرت عثمان کے زمانہ میں ظاہر ہوا تھا اور ایک مصری شخص عبداللہ بن سبا کے اثر کے نیچے تھا (یہ شخص در حقیقت مصری نہیں بلکہ یمنی تھا لیکن چونکہ یہ یمن سے مصر میں آباد ہو گیا تھا اس لئے مصری کہلاتا تھا۔ جیسے مصری صاحب کچھ عرصہ مصر میں ٹھہرنے کی وجہ سے مصری کہلاتے ہیں ) انہوں نے بھی حضرت عثمان سے خلافت سے غزل کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ آپ گندے آ آدمی ہیں، آپ جیسا شخص خلافت کا اہل نہیں ہو سکتا۔ اور پھر اسی گروہ کے آدمیوں نے آپ کو قتل کیا ۔ مگر بعد میں جب دیکھا کہ اگر ہم اب بھی مخالف رہے تو مسلمان ہمیں تباہ کر دیں گے جھٹ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جاملے اور کہنے لگے اے علی ! اُٹھیے اور لوگوں کی بیعت لیجئے اور خلافت کی اس شدت سے تائید کی اور خلافت کی تائید میں اتنی پُر جوش تقریریں کیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر اُن کی حقیقت مشتبہ ہوگئی اور وہ ان کو بری خیال کرنے لگ گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت معاویہ نے مطالبہ کیا کہ حضرت عثمان کا ان لوگوں سے قصاص لیا جائے تو حضرت علیؓ نے کہا یہ تو بڑے اچھے لوگ ہیں اور دین کا درد رکھنے والے ہیں، یہ کس طرح قاتل ہو سکتے ہیں ۔ اس کے بعد جب حضرت علی کی حضرت معاویہ سے جنگ ہوئی جو جنگ صفین کہلاتی ہے تو اُس وقت آپ نے لشکر کے تین حصے کر دیئے ۔ ایک حصہ کا افسر آپ نے الاشتر کو بنایا دوسرے حصہ کا افسر حضرت عبداللہ بن عباس کو اور تیسرے حصہ کو اپنے ماتحت رکھا۔ جو لوگ حضرت علیؓ کے ماتحت تھے وہ کوفی