انوارالعلوم (جلد 14) — Page 542
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر خارجیوں کا عقیدہ ہے جو وہ رکھتے ہیں ۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اور الہام بھی ہے جس میں آپ کو بتایا گیا ہے کہ أُخْرِجَ مِنْهُ الْيَزِيدِيُّونَ ۵۵ یعنی قادیان سے ایک یزیدی جماعت نکلے گی ۔اور یزیدی وہ تھے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا مقابلہ کیا مگر وہ شروع سے آپ کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے ۔ اور خوارج وہ تھے جو پہلے بیعت میں شامل تھے مگر بعد میں الگ ہو گئے ۔ پس پہلی رؤیا اور اس الہام سے ظاہر ہوتا تھا کہ میری خلافت کے مقابلہ میں ایک گروہ تو وہ ہوگا جو ابتداء سے ہی میری بیعت میں شامل نہ ہوگا اور ایک گروہ وہ ہوگا جو شامل تو ہوگا مگر بعد میں میرا مخالف ہو جائے گا اور مجھ سے خلافت چھوڑ دینے کا مطالبہ کرے گا جیسے خوارج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کیا۔ یزیدی گروہ پہلے غیر مبائعین کے ذریعہ ظاہر ہوا اور اب مصری صاحب کے ذریعہ خوارج کا گر وہ ظاہر ہوا ہے۔ چنانچہ خوارج پہلے بیعت میں تھے پھر الگ ہوئے مصری صاحب بھی پہلے میری بیعت میں ۔ تھے اور پھر الگ ہوئے ۔ چونکہ یہ ایک زبر دست پیشگوئی ہے اور اس میں وہ مسائل وغیرہ بھی جن میں اختلاف ہونا تھا بتائے گئے ہیں اس لئے میں اس کو تفصیل سے بیان کرتا ہوں ۔ اس رویا میں بتایا گیا ہے کہ خوارج کا ایک گروہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خلافت کی ویسی ہی مخالفت کرے گا جیسے اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مخالفت کی تھی ۔ پس تم مجھے علی کی جگہ سمجھ لو اور مصری صاحب کو خوارج کی جگہ اور پھر دیکھو کہ یہ پیشگوئی کس شان کے ساتھ پوری ہوئی ہے ۔ مگر چونکہ اس میں خوارج کا ذکر آتا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ گروہ وہی حرکات کرے گا جو خوارج نے کیں اس لئے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ خوارج کون تھے اور ان کی ابتدا کس طرح ہوئی۔ صلى الله خوارج کی ابتدا خوارج کی ابتدا در حقیقت سول کریم پی اے کے زمانہ سے ہی ہوئی ہے چنانچہ ایک دن خدا کا وہ مقدس رسول جو دنیا میں امانت و دیانت قائم کرنے کیلئے آیا تھا صحابہؓ کے سامنے کھڑا تھا اور آپ کے سامنے وہ اموال تھا پڑے تھے جو ایک جنگ میں فتح کے بعد مسلمانوں کو حاصل ہوئے اور جن کے متعلق خدا تعالیٰ کا