انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 18

انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہر گز کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے کریں اور دعوتوں وغیرہ کے موقع پر اگر چہ یہ پابندی نہ ہو مگر کوشش کی جائے کہ ایسے مواقع پر بھی خرچ کم ہو، کھانا معمولی اور سستا ہو اور دعوتوں کے موقع پر جو لوگ پہلے چار کھانے تیار کرتے تھے وہ دوکریں اور جو آٹھ دس کرتے ہیں وہ تین چار پر اکتفاء کریں۔جماعت کا اکثر حصہ اس تحریک کو قبول کر چکا ہے مگر پھر بھی کئی ہیں جو اس بارہ میں غفلت کرتے ہیں اور پھر کئی ہیں جو بار بار شرطیں پوچھتے ہیں۔ایک خاتون نے مجھے کہا اور کتنا شر مندہ کیا کہ مردوں کو کھانے کا شوق ہوتا ہے آپ نے ان کو ایک کھانے کا حکم دیا مگر وہ اس کے متعلق کئی سوالات پوچھتے رہتے ہیں۔عورتوں کو زیور کا شوق ہوتا ہے اور آپ نے انہیں حکم دیا کہ زیور نہ بنوا ؤ۔عورتوں نے اس کے متعلق کوئی سوال کیا ہی نہیں اور فوراً اس حکم کو مان لیا۔میں اپنے منصب اور مقام کے لحاظ سے تو نہ مشرقی ہوں نہ مغربی نہ عورتوں کا ایجنٹ ہوں نہ مردوں کا مگر اس کے اس لطیفہ میں مجھے مزا آیا کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو بھی جواب کا موقع دے دیا۔ہمیں چاہئے کہ قربانی کیلئے ہر وقت تیار رہیں اور تیاری کرتے رہیں ورنہ وقت آنے پر فیل ہو جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی ایک مثال سنایا کرتے تھے کہ کسی بادشاہ نے کہا ، سپاہیوں کا کیا فائدہ ہے خواہ مخواہ بیٹھے تنخواہ لیتے ہیں ، سب سپاہی موقوف کر دیے جائیں۔جب قریبی ملک کے بادشاہ کو اس کا علم ہوا تو اس نے جھٹ حملہ کر دیا۔اب اس نے مقابلہ کی یہ تجویز کی کہ سب قصائیوں کو بھیجا جائے تاکہ حملہ آور فوج کا مقابلہ کریں۔چنانچہ انہیں بھیجا گیا مگر تھوڑی ہی دیر کے بعد وہ بھاگے ہوئے آئے کہ حضور بہت ظلم ہو گیا۔وہ لوگ تو نہ رگ دیکھتے ہیں نہ پیٹھا ، ہم تو چار چار آدمی مل کر پہلے ایک آدمی کو لٹاتے ہیں اور پھر قاعدہ کے ساتھ اسے ذبح کرتے ہیں مگر وہ لوگ اتنے عرصہ میں ہمارے ہیں آدمی مار ڈالتے ہیں ہم فریادی ہو کر آئے ہیں کہ کوئی انتظام کیا جائے۔پس جو قوم دشمن کے مقابلہ کے لئے تیار نہیں رہتی ، اس کا وہی حال ہوا کرتا ہے جو ان قصائیوں کا ہوا۔تمہارا مقابلہ بھی ان لوگوں سے ہے جو نہ رگ دیکھتے ہیں نہ بیٹھا، اور جب تک تم بھی ان کے مقابلہ کے لئے اچھی طرح تیار نہ ہو گے کامیابی نہیں ہو سکتی اس لئے تکالیف کو برداشت کرنے کیلئے تیار ہو جاؤ۔سادہ غذا کھاؤ اور جو اس ہدایت سے منہ موڑے، تم اُس سے منہ موڑ لو اور اس سے صاف کہہ دو کہ آج سے میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں۔اسی طرح اپنے لباس کو سادہ بناؤ اور ضرورت سے زیادہ کپڑے نہ بنواؤ۔جن کے پاس کافی کپڑے ہوں جب