انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 530

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو خدا اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے اور ان کیلئے سخت ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا ہے اور وہ لوگ جو مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کو دکھ دیتے اور ان پر الزام لگاتے ہیں بغیر اس کے کہ انہوں نے کچھ کیا، یقینا وہ ایک بہت بڑا بہتان باندھتے اور گھلے گھلے گناہ کے مرتکب بنتے ہیں۔اے نبی ! تو اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مؤمنوں کی عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی چادریں جُھکا کر منہ کو چُھپا لیا کریں۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ پہچانی جائیں گی اور انہیں ایذاء نہیں پہنچے گی اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں گند ہے اور شہر میں بے بنیاد افواہیں اُڑاتے رہتے ہیں باز نہ آئے تو ہم تجھے ان کے مقابلہ کیلئے کھڑا کر دیں گے اور پھر وہ تیرے قریب نہیں رہ سکیں گے ہاں کچھ تھوڑا عرصہ رہ لیں تو رہ لیں۔یہ لوگ ملعون ہیں اور خدا تعالیٰ کی لعنت کے نیچے ہیں جہاں کہیں یہ لوگ پائے جائیں پکڑے جائیں اور انہیں قتل کیا جائے یعنی ان سے کامل طور پر مقاطعہ کیا جائے۔اب قطع نظر کسی اور الزام کے اگر اسی الہام کو لے لیا جائے اور دیکھا جائے کہ قرآن کریم میں یہ آیت کس مقام پر بیان کی گئی ہے تو اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ مصری صاحب کا قدم راستی پر ہے یا ضلالت اور گمراہی پر۔ان آیتوں میں مضمون یہ بیان کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے رسول کے خاندان اور مؤمن عورتوں پر بعض لوگ گندے اتہام لگاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں اور انہیں ہماری طرف سے بہت جلد سزا ملے گی۔پس ان آیات میں دو گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے ایک وہ جن پر گندے الزام لگائے جاتے ہیں اور ایک وہ جو گندے اتہام لگانے والے ہیں۔جولوگ گندے اتہامات لگاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو منافق قرار دیتا ہے اور جن پر یہ اتہامات لگائے جاتے ہیں ان کو بری قرار دیتا ہے۔اب مصری صاحب دیکھ لیں کہ ان آیات کے مطابق وہ کس مقام پر ہیں اور ہماری جماعت کس مقام پر ہے۔آیا میں اور ہماری جماعت کے دوسرے لوگ ان پر الزام لگاتے ہیں یا وہ ہم پر الزام لگاتے ہیں۔بہر حال جو بھی الزام لگانے والا ہے قرآن کریم اسے مجرم قرار دیتا ہے اور جن پر الزام لگایا گیا ہو انہیں بری قرار دیتا ہے۔اب اگر میں نے کہا ہے کہ مصری صاحب زانی اور بدکار ہیں تو وہ اپنے آپ کو سچا کہہ سکتے ہیں اور اگر انہوں نے مجھے