انوارالعلوم (جلد 14) — Page 528
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر لکھتا ہے کہ سعد کو قتل نہ کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ عربی میں قتل کے اور معنی بھی ہیں جن میں سے ایک قطع تعلق کے ہیں۔اور حضرت عمرؓ کے اس قول کے معنی یہ تھے کہ :۔کا اجْعَلُوهُ كَمَنْ قُتِلَ وَاحْسِبُوهُ فِى عِدَادِمَنْ مَاتَ وَهَلَكَ وَلَا تَعْتَدُّوا بِمَشْهَدِهِ وَلَا تُعَرِّجُوْا عَلَى قَوْلِهِ ها یعنی اسے ایسا ہی سمجھو جیسے کوئی مقتول ہوتا ہے اور اسے ان لوگوں میں شمار کرو جو مر چکے ہیں یعنی اگر سامنے آئے تو اس کی طرف توجہ نہ کرو اور اگر بات کرے تو اسے جواب نہ دو۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ اِذَابُوعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الأخِيرَ مِنْهُمَا - ل یعنی جب دو خلیفوں کی بیعت کر لی جائے تو دوسرے کو قتل کر دو۔لسان العرب والا لکھتا ہے کہ اس جگہ بھی قتل کے معنی قتل کرنے کے نہیں ہیں بلکہ یہ معنی ہیں کہ اَبْطِلُوا دَعْوَتَهُ وَاجْعَلُوهُ كَمَنْ قَدَمَاتَ کہ اس کی دعوت کو رد کر دو اور اسے ایسا سمجھو گویا وہ مر چکا ہے۔غرض قتل کے ایک معنی قطع تعلق اور واسطہ نہ رکھنے کے بھی ہیں، اور یہی معنی اس جگہ چسپاں ہوتے ہیں ورنہ جب خدا تعالیٰ نے یہ کہہ دیا کہ حکومت کی اطاعت کرو اور اُس کے احکام کی پابندی کرو تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ وہ یہ بھی کہہ دیتا کہ منافقوں کو قتل کر دینا اور حکومت وقت کے قوانین کو توڑ دینا۔پس اس جگہ قتل کے ایک معنی قطع تعلق کے ہیں اور ان الہامات کا ایک مطلب یہ ہے کہ زینب کا تعلق بعض منافقین سے ہو گا جو اس بات کے مستحق ہوں گے کہ ان سے قطع تعلق کیا جائے مگر تم زینب کا لحاظ کر لینا کیونکہ اُس کی حیثیت محض ایک تابع کی سی ہوگی۔چنانچہ باوجود اس بات کے کہ میں ان کے معنوں کو غلط سمجھتا ہوں میں نے اس قدر رلحاظ کر لیا کہ جہاں میں نے مصری صاحب اور دوسرے منافقین سے اپنی جماعت کو قطع تعلق کا حکم دیا وہاں میں نے یہ بھی اعلان کر دیا کہ زینب سے قطع تعلق کا حکم نہیں ہے۔پس ان معنوں کی رو سے زینب کا ذکر بھی ضروری تھا کیونکہ پیشگوئی اصل مصداق کے متعلق ہی رہتی ہے اور یہ نہیں ہوتا کہ الزام شیخ صاحب پر ہو اور بریت ان کی بیوی کی ہو۔اگر شیخ صاحب یہ کہیں کہ تم اس الہام کو میری بیوی پر کیوں چسپاں کرتے ہو؟ تو ہم انہیں کہیں گے کہ آپ نے خود اپنے خط میں لکھا ہے کہ یہ الہام میری بیوی سے متعلق ہے۔اس صورت میں ان کا یہ کہنا غلط ہو جائے گا کہ یہ پیشگوئی خواہ مخواہ ان کی بیوی پر چسپاں کی جاتی ہے۔اب میں بتاتا ہوں کہ فی الواقع یہ پیشگوئی ان کی بیوی ہی کی نسبت ہے مگر اس کے معنی وہ