انوارالعلوم (جلد 14) — Page 527
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر بھی ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مصری صاحب کی تائید کرتے ہوئے ان کے تابعین کی بھی تعریف کر دی مگر یہاں تو تابع کا ہی ذکر ہے متبوع کا ذکر نہیں۔دوسرے اگر انہی معنوں میں ان کی بیوی پر یہ الہام چسپاں کیا جائے جو وہ کرتے ہیں، تب بھی اس کے معنے تو یہ بنیں گے کہ منافقوں کی سزا قتل ہے لیکن زینب چونکہ ایک عورت ہے اور اپنے خاوند کے اثر کے ماتحت اس غلطی میں مبتلاء ہوئی ہے، اس لئے اسے قتل نہ کرو کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ عورتوں کو قتل نہیں کرنا چاہئے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے قتل سے مراد اس جگہ ہر گز قتل نہیں۔الہامات کے معنے ہر زمانہ کے حالات کے مطابق بدل جاتے ہیں۔چونکہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس حکومت نہیں، اس لئے ایسے لفظوں کے معنے بھی بدل جائیں گے اور اگر ہم اس کے معنے قتل کے ہی کریں تو اس سے خدا تعالیٰ پر اعتراض وارد ہو گا کہ ایک طرف تو وہ کہتا ہے کہ منافقوں کو قتل کرو اور دوسری طرف حکم دے دیتا ہے کہ حکومت وقت کے احکام کی اطاعت کرو اور کوئی قانون شکنی نہ کرو۔کیا یہ متضاد حکم خدا تعالیٰ دے سکتا ہے اور کیا اس الہام کے یہ معنے کرنا موجودہ زمانہ میں دین سے ہنسی اور تمسخر نہیں ؟ الہامات کے معنی ہر زمانہ کے حالات کے مطابق بدل جاتے ہیں۔چنانچہ آپ کے الہاموں میں جہاں کہیں جہاد کا لفظ آئے گا اس سے مراد تبلیغ ہو گی۔یا جب آپ کو یہ الہام ہوا کہ آریوں کا بادشاہ ، تو اس سے یہ مراد نہیں تھی کہ آپ کے پاس فوجیں ہوں گی بلکہ اس کے یہ معنی تھے کہ آپ کو روحانی بادشاہت حاصل ہے۔اور یہ کہ آریہ اقوام کسی زمانہ میں نہایت کثرت سے احمدیت میں داخل ہوں گی۔اسی طرح قتل کے بھی یہ معنی ہیں کہ منافقوں سے قطع تعلق کر لو۔چنانچہ عربی زبان میں قتل کے ایک معنی قطع تعلق کے بھی ہیں۔روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے اور سعد بن عبادہ نے بیعت سے انکار کیا اور کہا کہ انصار کا حق زیادہ ہے ان میں سے کوئی خلیفہ ہونا چاہئے تو حضرت عمر نے کہا اُقْتُلُوا سَعْدًا قَتَلَهُ الله کے اللہ سعد کو قتل کرے تم اُسے قتل کر دو مگر یہ کہیں ثابت نہیں کہ حضرت عمرؓ اور باقی صحابہ نے تلواریں لی ہوں اور انہوں نے سعد کو قتل کر دیا ہو بلکہ انہوں نے اس کا مقاطعہ کر دیا۔سعد مسجد میں آتے نماز پڑھتے مگر کوئی ان سے گفتگو نہ کرتا۔لسان العرب والا جس کی لغت میں ضخیم جلدوں میں ہے اور جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی نہایت معتبر اور اعلیٰ پایہ کی لغت سمجھتے اور اس پر اعتماد رکھتے تھے اس حدیث کا حوالہ دے کر