انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 526

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر زینب کو قتل مت کرو جس سے معلوم ہوا کہ زینب منافق نہیں اُس کو منافقوں میں شامل کر کے اُس کے قتل کی تجویز نہ کرنا۔حالانکہ ہمارے نزدیک انہوں نے اس الہام کے جو معنی کئے ہیں کہ منافقوں کو قتل کر دو یہ بالکل غلط ہیں۔ہمارے نزدیک اس قسم کے احکام مختلف زمانوں کے لحاظ سے مختلف مفہوم کے حامل ہوتے ہیں۔جب یہ الہام ایسے نبی پر نازل ہو جو کسی حکومت کے ماتحت نہ ہو بلکہ خود اُس کی حکومت ہو تو اس کے معنی قتل کے بھی ہو سکتے ہیں مگر جب یہ الہام ایسے نبی پر نازل ہو جو کسی اور حکومت کے ماتحت رہتا ہو تو وہاں قتل کے کوئی اور معنی ہوں گے اور خود لُغت والوں نے اس کی تصریح کی ہے اور لکھا ہے کہ جب بادشاہت حاصل ہو تب اس کے معنی قتل کرنے کے ہوں گے مگر جب بادشاہت حاصل نہ ہو تو یہ معنی نہیں ہوں گے۔بظاہر مصری صاحب نے یہ ایک اچھا حربہ نکالا۔لیکن جب ہم ان معنوں پر تنقید کی نظر ڈالتے ہیں تو یہ معنی درست معلوم نہیں ہوتے۔لیکن بایں ہمہ اس لحاظ سے ہمیں ان کا ممنون ہونا پڑتا کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی وہ وحی جو نہ معلوم کتنے عرصے کے بعد ہمارے سامنے آتی ، خود بخود ہمارے سامنے پیش کر دی۔ان معنوں پر اوّل تنقید یہ ہے کہ سلسلہ میں فتنہ ڈالنے والے مصری صاحب ہیں یا ان کی بیوی ؟ اگر یہ تمام فساد ان کی بیوی نے ڈالا ہے اگر وہ صدرانجمن احمدیہ کی ملازم تھی اگر وہ اندر ہی اندر جماعت میں تفرقہ پیدا کرتی رہی، اگر اس نے سکول کے طالب علموں پر بُرا اثر ڈالا اگر اس نے ہمارے خلاف اشتہارات شائع کئے اور اگر یہ تمام شور مصری صاحب کی بیوی نے برپا کیا ہے تو یقیناً لَا تَقْتُلُوا زَيْنَبَ کے یہ معنی ہوتے کہ مصری صاحب کی بیوی زینب نیک نیتی سے ایسا کر رہی ہے اسے منافقوں میں سے مت سمجھو۔مگر تعجب یہ ہے کہ حملہ کرنے والے شیخ صاحب عالم ربانی کا دعویٰ کرنے والے وہ سلسلہ کا کارکن ہوتے ہوئے اس کے خلاف کارروائیوں کا الزام ان پر پھر کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی براءت نہ کی۔لیکن براءت کی تو ان کی بیوی کی جس کا درمیان میں کوئی واسطہ بھی نہ تھا، صرف ایک متبع کی حیثیت تھی۔غالبا یہ طریق فیصلہ دنیا میں کہیں بھی نظر نہیں آئے گا کہ ایک جج کے سامنے سوال تو یہ پیش ہوا کہ زید نے چوری کی اور وہ فیصلہ یہ کرے کہ زید کی بیوی چور نہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی مجسٹریٹ ایسا فیصلہ کرے تو گورنمنٹ اُسے فوراً پاگل خانے بھیج دے۔پس اس قسم کی بات کسی انسان کی طرف بھی منسوب نہیں کی جا سکتی کجا یہ کہ اسے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جا سکے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دس ہیں الہام اس کی تائید میں ہوتے اور ایک اُن کی بیوی کے متعلق