انوارالعلوم (جلد 14) — Page 523
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر ان سے کہا آپ کو ضلع کے انتظام کی خبر ہے آپ کیا جانتے ہیں کہ پیشگوئی کیا ہوتی ہے اور آپ کا کیا حق ہے کہ جس بات کا آپ کو علم نہیں اُس کے متعلق آپ گفتگو کریں۔یہ محض آپ کو دھوکا اور فریب دیا گیا ہے۔اگر میری صرف یہی ایک دو پیشگوئیاں ہوتیں تب تو دھوکا لگ سکتا تھا کہ شاید ان ایک دو پیشگوئیوں کو پورا کرنے کیلئے میں نے خود حملہ کروایا ہے مگر میری تو بیسیوں پیشگوئیاں ہیں جو روزِ روشن کی طرح پوری ہوئیں۔جب گورنمنٹ نے ایک دفعہ یہ اعلان کیا تھا کہ اب پنجاب اور ہندوستان سے طاعون بالکل مٹ گئی ہے تو اُس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ اگلے سال طاعون کا شدید حملہ ہونے والا ہے۔چنانچہ میں نے اپنی یہ پیشگوئی خطبہ میں بیان کی اور وہ خطبہ الفضل میں چھپ گیا جس کے عین مطابق اگلے سال اتنی سخت طاعون پھیلی اور اس سے اتنی کثیر اموات ہوئیں کہ گورنمنٹ نے تسلیم کیا کہ گزشتہ دس سال کی اموات کی مجموعی تعداد سے بھی اس دفعہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔پھر میں نے اپنی بعض اور خوا ہیں اُسے بتائیں اور کہا کہ کیا یہ سب کچھ میں نے کیا تھایا خدا نے کیا تھا؟ یہ سن کر اُس نے سر نیچے ڈال دیا اور خاموش ہو گیا۔میں نے کہا جس چیز کا آپ کو علم نہیں اُس کے متعلق آپ کو یہ ہرگز حق حاصل نہیں کہ اس میں دخل دیں۔مگر بہر حال ان کے اس پراپیگنڈے کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بھی اعتراض کرنے والوں نے اعتراض کر دیا حالانکہ کسی کے یقینی قتل ہو جانے کی کون شخص خبر دے سکتا ہے۔یہ تو ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی کو قتل کرے اور وہ قتل ہو جائے مگر قبل از وقت ایک خبر دینا اور پھر ویسا ہی وقوع میں آ جانا یہ انسان کے اختیار میں نہیں۔کیا دنیا میں ہر شخص جو دوسرے پر حملہ کرتا ہے اپنے حملہ میں ضرور کامیاب ہو جاتا ہے لوگ ہزاروں دفعہ حملے کرتے ہیں مگر نا کام رہتے ہیں اور پھر یہ رویا تو ہمیں بعد میں یاد آئے۔میری اپنی یہ حالت تھی کہ جب پہلے دن مجھے اس حملہ کی اطلاع ملی تو میں برابر یہ دعا کرتا رہا کہ یا الہی ! اب ہمارے آدمی کا قصور اسی طرح معاف ہوسکتا ہے کہ اس کی جان بچ جائے پس تو اسے بچا لے مگر الہی منشاء کچھ اور تھا اور وہ واقعہ ہو گیا ور نہ میرے تو واہمہ میں بھی یہ قتل نہیں تھا۔میں صرف یہ سمجھتا تھا کہ کسی اور طرح اللہ تعالیٰ کا ان پر عذاب نازل ہوگا اور یہ ذلیل ہو جائیں گے لیکن کیا دنیا میں روزانہ ایسے واقعات نہیں ہوتے کہ لوگ قتل کیلئے حملے کرتے ہیں مگر ان کے حملے رائیگاں جاتے ہیں اور جن کو قتل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے وہ بچ جاتے ہیں۔پس قتل کی خبر دینا اور پھر ویسا ہی وقوع میں آ جانا یہ بھی بتا تا ہے کہ اس کے پیچھے خدائی ہاتھ تھا انسانی ہاتھ نہیں تھا ور نہ حملہ ہوتا مگر بے کا ر چلا جاتا۔