انوارالعلوم (جلد 14) — Page 520
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر حضرت مسیح ناصرٹی کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا تو اُسے کہا دیکھ چوری مت کر۔وہ کہنے لگا خدا کی قسم! میں چوری نہیں کر رہا۔حضرت مسیح نے فرمایا میں نے اپنی آنکھوں کو چھٹا یا مگر تیری قسم کو سچ سمجھ لیا۔یہ خدا کے ایک نبی کا نمونہ ہے۔اور ایک نمونه مصری صاحب کا ہے کہ میں نے مؤکد بعذاب قسم کھائی اور انہیں پھر بھی اعتبار نہیں آیا۔مصری صاحب جب جماعت سے علیحدہ ہوئے تو ایک دوست نے افریقہ سے مجھے لکھا کہ مجھے سخت گھبراہٹ ہے جب اتنے بڑے بڑے آدمیوں کا ایمان ضائع ہو گیا تو ہمارا ایمان کیا حقیقت رکھتا ہے۔میں نے انہیں لکھوایا کہ بڑائی کا فیصلہ کرنا خدا کا کام ہے آپ کا نہیں۔جب خدا نے اپنے عمل سے انہیں جماعت سے الگ کر دیا ہے اور آپ کو اُس نے رکھا ہے تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ چھوٹے تھے اور آپ بڑے ہیں۔پس اس شبہ کو اپنے دل سے نکال دیں کہ آپ کا ایمان کمزور ہے یہ اپنے نفس پر بدظنی ہے۔خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ آپ بڑے ہیں پس بجائے گھبرانے اور تشویش کا اظہار کرنے کے آپ کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ کریں اور کہیں کہ اے خدا! تیرا شکر ہے کہ اس امتحان میں تو نے ہم کو عزت دی اور ہمیں ایمان کے لحاظ سے بڑا ثابت کیا۔پھر ہمارے لئے یہ امر کس قدر موجب ازدیاد ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت ان فتوں کی ہمیں خبر دے رکھی تھی چنانچہ ۱۹۱۵ء میں جب مصری صاحب کے آئندہ حالات کا کسی کو وہم و گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا اور یہ مصر سے واپس آئے تھے، اُس وقت مجھے ایک رؤیا ہو ا جس میں مجھے بتایا گیا کہ شیخ صاحب کا خیال رکھنا یہ مرتد ہو جائیں گے۔چنانچہ اس رؤیا کی بناء پر میں نے صدرانجمن احمدیہ کو توجہ دلائی کہ ان کا خاص خیال رکھا جائے۔چنانچہ اس خواب کے گواہ بھی موجود ہیں جن میں سے ایک مولوی سید سرور شاہ صاب ہیں۔مولوی سید سرور شاہ صاحب کے متعلق بالعموم یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ چونکہ صدرانجمن احمدیہ کے رکن ہیں اس لئے اس قسم کی گواہی دے دیتے ہیں حالانکہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ اعتراض وارد ہو گا کہ آپ نے جو صحابہ تیار کئے وہ نَعُوذُ بِاللهِ جھوٹ بولنے والے ہیں۔پھر مولوی سید سرور شاہ صاحب کی اکیلی گواہی نہیں کہ اسے قابل قبول نہ سمجھا جائے بلکہ اور بعض دوست بھی میرے اس رؤیا کے گواہ ہیں۔چنانچہ جب اس فتنہ کے خلاف جماعتوں نے ریزولیوشن (RESOLUTION) پاس کر کے میرے پاس بھیجے تو ان میں سے ایک