انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 516

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر انہوں نے خود اس تحریک میں کیوں حصہ نہیں لیا۔وہ سمجھتے ہیں کہ جب ہم کسی کو کہیں کہ اس تحریک میں حصہ لو تو وہ دریافت کرے گا کہ آپ نے کیا دیا۔اور چونکہ ہم نے کچھ دیا نہیں اس لئے اس شرمندگی کا یہی علاج ہے کہ کسی کو تحریک نہ کرو۔حالانکہ جب کوئی عہدہ دار مقرر ہوتا ہے تو اُس کا فرض ہوتا ہے کہ ہر تحریک خواہ وہ اس میں خود حصہ لیتا ہے یا نہیں دوسروں تک پہنچا دے۔میں سمجھتا ہوں کہ دوسروں کو تحریک نہ کر کے وہ خدا تعالیٰ کے حضور گنہگار بنتے ہیں۔اگر وہ واقعہ میں معذور ہیں اور اس تحریک میں حصہ نہیں لے سکتے تو انہیں دعائیں کرنی چاہئیں اور کم سے کم نیکی کا جو حصہ انہیں دوسروں کو تحریک کر کے مل سکتا ہے اس سے محروم نہیں رہنا چاہئے۔اس کے ساتھ ہی میں اُن لوگوں کو بھی جنہوں نے گزشتہ سال یا گزشتہ سے پیوستہ سالوں میں وعدہ کیا تھا مگر ابھی تک اپنے وعدہ کی رقوم ادا نہیں کیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ یا تو اپنے وعدہ کو پورا کریں اور یا مجھ سے معافی لے لیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِنَّ الْعَهْدَ كَان مَسْئُو لا کے کہ ہر وہ عہد جو تم کرتے ہو اس کے متعلق تم سے سوال کیا جائے گا کہ تم نے اسے کہاں تک پورا کیا۔پس وعدہ کرنے والے دوست یا تو اپنے وعدوں کو پورا کریں اور یا پھر مجھ سے معافی لے لیں۔مگر بعض لوگ نہ رقم ادا کرتے ہیں اور نہ معافی لیتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں اگر انہوں نے معافی کی درخواست کی تو میں تحقیقات کراؤں گا کہ آیا وہ قابلِ معافی ہیں یا نہیں۔میں اس قسم کے شکوک کے ازالہ کے لئے کہہ دینا چاہتا ہوں کہ جب بھی کسی دوست کی طرف سے معافی کی درخواست آتی ہے فوراً اُس کا نام رجسٹر سے کٹوا دیا جاتا ہے اور کوئی تحقیقات نہیں کی جاتی۔پس دوستوں کو تسلی رکھنی چاہئے کہ ان کے متعلق ہرگز جماعتوں سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ آیا وہ قابل معافی ہیں یا نہیں، بلکہ محض ان کی طرف سے اطلاع آنے پر انہیں معاف کر دیا جائے گا اور خدا کے حضور وہ گنہگار ہونے سے بچ جائیں گے۔اور اگر وہ معافی نہیں لینا چاہتے اور نیت رکھتے ہیں کہ ادا کر دیں گے مگر ابھی انہیں طاقت نہیں تو وہ مہلت لے لیں۔غرض دوست گزشتہ سالوں کے وعدوں کی رقوم یا تو ادا کر دیں یا معاف کرالیں اور یا پھر ان کی ادائیگی کیلئے مہلت لے لیں۔اس وقت تحریک جدید کے امانت فنڈ کی طرف بھی میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں۔یہ ایک نہایت ضروری مد ہے اور جن دوستوں نے ابھی تک اس میں حصہ نہیں لیا انہیں چاہئے کہ اس میں شامل ہو جائیں اپنی آمد کا ایک حصہ پس انداز کرنا ایسا ضروری ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی یہ طبیعت دیکھ کر کہ آپ کو جو کچھ ملتا ہے خرچ کر دیتے ہیں ، اُس