انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 503

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر وہ احمدی جو ہمارے ریکارڈ کے لحاظ سے ہمیں معلوم ہیں اور جو اپنے آپ کو ایک نظام میں شامل کئے ہوئے ہیں وہ تین چار لاکھ سے کم نہیں۔اگر یہ لوگ اپنے اندر زندگی کی حقیقی روح پیدا کریں اور عورتوں اور بچوں اور ان لوگوں کو نکال بھی دیا جائے جو انتہائی غربت کی وجہ سے کسی اخبار کے خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے تو کم از کم ہیں ہزار لوگ یقیناً ہماری جماعت میں ایسے موجود ہیں جو سستا یا مہنگا کوئی نہ کوئی اخبار خرید سکتے ہیں مگر افسوس ہے کہ اس طرف توجہ نہیں کی جاتی اور ان کا نفس یہ عذر تراشنے لگ جاتا ہے کہ اور چندوں کی کثرت کی وجہ سے ہم اخبار نہیں خرید سکتے حالانکہ اس قسم کے چندے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی تھے اور گو اس وقت عام چندہ کم تھا مگر ایسے مخلص بھی موجود تھے جو اپنا تمام اندوختہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش کر دیتے تھے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کچھ روپیہ کی ضرورت پیش آئی بہت سے مہمان آئے ہوئے تھے اور ان کے لئے روپیہ کی ضرورت تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے گھر میں حضرت اماں جان سے ذکر کیا کہ آج روپیہ کی ایسی تنگی محسوس ہو رہی ہے کہ مجھے خیال آتا ہے شاید کہیں سے قرض لینا پڑے۔اس کے بعد آپ کسی ضرورت کیلئے باہر تشریف لائے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد ہی گھر واپس آگئے اُس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک رومال تھا جو غالبا ململ کا تھا اور کچھ پھٹا ہوا بھی تھا آپ نے ہماری والدہ صاحبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ بھی کیسے عجیب سامان کرتا ہے ابھی میں روپوں کا ذکر کر رہا تھا اور ابھی جب کہ میں باہر گیا تو ایک غریب سے آدمی نے جس نے پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے مجھے یہ رومال دیا جس میں کچھ بندھا ہوا تھا۔میں نے اُس کی غربت کو دیکھتے ہوئے خیال کیا کہ چونکہ بعض لوگوں کو شوق ہوتا ہے کہ ہم زیادہ رقم نذرانہ کے طور پر پیش کریں اس لئے غالبا یہ دھیلے یا دمڑیاں ہونگی مگر جب میں نے رومال کو کھولا تو وہ روپے تھے اور گھنے پر دو سو یا دو سو دس روپے نکلے تو گو اس وقت آنہ فی روپیہ چندہ دینے کا طریق نہیں تھا اور بعض لوگ پیسہ اور بعض دو پیسے کے حساب سے چندہ دیتے تھے مگر اپنے اخلاص کی وجہ سے وہ اور وقتوں میں بہت زیادہ چندہ بھی دے دیتے تھے۔مجھے یاد ہے منشی رستم علی صاحب مرحوم جو کورٹ سب انسپکٹر تھے ۲۵ روپے ماہوار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو چندہ بھیجا کرتے تھے اُن کی تنخواہ اُس وقت ایک سو روپیہ تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہی دنوں چندہ کی تحریک کی تو میرے سامنے