انوارالعلوم (جلد 14) — Page 502
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر اس طرح پڑھے ہوؤں میں سے بھی ایک حصہ محروم رہ جاتا ہے۔پھر ایک طبقہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو اپنے آپ کو ارسطو اور افلاطون کا بھائی سمجھتے ہیں انہیں توفیق بھی ہوتی ہے اور اخبار کی خریداری کی استطاعت بھی رکھتے ہیں مگر جب کہا جاتا ہے کہ آپ الفضل کیوں نہیں خریدتے تو کہہ دیتے ہیں اس میں کوئی ایسے مضامین نہیں ہوتے جو پڑھنے کے قابل ہوں۔ان کے نزدیک دوسرے اخبارات میں ایسے مضامین ہوتے ہیں جو پڑھے جانے کے قابل ہوں مگر خدا تعالیٰ کی باتیں ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتیں کہ وہ انہیں سنیں اور ان کے پڑھنے کے لئے اخبار خرید میں ایسے لوگ یقیناً وہی ہوتے ہیں اور ان میں قوتِ موازنہ نہیں پائی جاتی۔میرے سامنے جب کوئی کہتا ہے کہ الفضل میں کوئی ایسی بات نہیں ہوتی جس کی وجہ سے اُسے خریدا جائے تو میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ مجھے تو اس میں کئی باتیں نظر آ جاتی ہیں آپ کا علم چونکہ مجھ سے زیادہ وسیع ہے اس لئے ممکن ہے کہ آپ کو اس میں کوئی بات نظر نہ آتی ہو۔اصل بات یہ ہے کہ جب کسی کے دل کی کھڑکی بند ہو جائے تو اس میں کوئی نور کی شعاع داخل نہیں ہوسکتی پس اصل وجہ یہ نہیں ہوتی کہ اخبار میں کچھ نہیں ہوتا بلکہ اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے اپنے دل کا سوراخ بند ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اخبار میں کچھ نہیں ہوتا۔اس سستی اور غفلت کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری اخباری زندگی اتنی مضبوط نہیں جتنی کہ ہونی چاہئے حالانکہ یہ زمانہ اشاعت کا زمانہ ہے اور اس زمانہ میں اشاعت کے مراکز کو زیادہ سے زیادہ مضبوط ہونا چاہئے۔میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اگر اخبارات کے متعلق ہماری جماعت کی وہی حالت ہو جائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں تھی تو اخبار ” الفضل کے روزانہ ہونے کے باوجود کم از کم پانچ ہزار خریدار پیدا ہو سکتے ہیں۔بشرطیکہ ہمارے دوستوں کے اندر وہی روح پیدا ہو جائے کہ وہ کہیں ہم نے بہر حال اخبار خریدنا ہے چاہے ہمیں پڑھنا آتا ہو یا نہ آتا ہو۔اور اسی روح سے کام کرنے کے نتیجے میں باقی رسائل وغیرہ کے بھی ہزار دو ہزار خریدار ہو سکتے ہیں کیونکہ اس وقت پنجاب میں ہماری ایک لاکھ سے زیادہ معلوم جماعت ہے۔وہ لوگ جو کمزوری کی وجہ سے اپنے آپ کو ظاہر نہیں کر سکتے یا دل میں تو احمدی ہیں مگر ہمیں ان کی احمدیت کا علم نہیں وہ اس سے الگ ہیں اور اگر سارے ہندوستان کو دیکھا جائے تو اس میں جو ہماری معلوم جماعت ہے اس کو شامل کر کے یہ تعداد دو لاکھ تک ہو جاتی ہے اور اگر بیرونِ ہند کی معلوم جماعت کو اس میں شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد تین ساڑھے تین لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔گویا