انوارالعلوم (جلد 14) — Page 501
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر اور دوسروں کو پڑھنے کیلئے دے دیتے اور سمجھتے کہ یہ بھی تبلیغ کا ایک ذریعہ ہے۔مجھے یاد ہے میاں شیر محمد صاحب جو بنگہ کے رہنے والے تھے انہوں نے بہت سے احمدی کئے۔ایک دفعہ جب میں ان کے علاقہ میں گیا تو دوستوں نے مجھے بتایا کہ ان کے ذریعہ کئی آدمی احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔میں نے جب ان سے گفتگو کی تو معلوم ہوا کہ وہ بالکل سیدھے سادے آدمی ہیں اور عمدگی سے بات تک بھی نہیں کر سکتے۔آخر میں نے دریافت کیا کہ یہ کس طرح تبلیغ کرتے ہیں تو دوستوں نے مجھے بتایا کہ یہ یکہ بان ہیں اور الحکم با قاعدہ منگواتے ہیں۔جب کوئی مسافران کے یکہ میں بیٹھ جاتا ہے اور یہ شکل صورت سے پہچان لیتے ہیں کہ یہ لڑا کا اور بد مزاج نہیں تو اسے کہتے ہیں ایک اخبار میرے نام آیا ہے میں پڑھا ہو ا نہیں آپ مہربانی فرما کر مجھے پڑھ کر سنا دیں۔اس پر انہوں نے الحکم نکال کر اس کے سامنے رکھ دینا اور اس نے سنانا شروع کر دینا۔یہ ہاں ہاں ہوں ہوں کرتے جاتے اور نتیجہ یہ ہوتا کہ کئی لوگ یکہ سے اتر تے اترتے کہتے کہ اخبار کہاں سے نکلتا ہے اس میں جس مدعی ماموریت کی باتیں لکھی ہیں اس کا پتہ ہمیں بھی بتاؤ تا کہ ہم اس سے ملیں اور اس طرح کئی آدمی ان کے ذریعہ احمدیت میں داخل ہو گئے۔اب وہ پڑھے ہوئے نہیں تھے مگر انہوں نے اس لئے اخبار منگوا نا ترک نہیں کیا کہ جب میں نہیں پڑھ سکتا تو اخبار منگوانے کا کیا فائدہ ہے بلکہ وہ برابر اخبار منگواتے رہے اور انہوں نے سمجھا کہ پڑھے ہوئے تو اخبار کے ذریعہ اپنا گھر پورا کر لیتے ہیں۔میں اگر پڑھا ہو انہیں تو اسی طرح ثواب میں شامل ہو سکتا ہوں کہ اخبار منگواؤں اور غیر احمدیوں کو پڑھنے کیلئے دے دوں تو اُس زمانہ میں دوستوں کو اخبارات کی طرف بہت زیادہ توجہ تھی اور اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ با وجود اس بات کے اُس وقت چند ہزار کی جماعت تھی آج کی نسبت اخبارات کی خریداری بہت زیادہ تھی اور جماعت میں ایک عام بیداری پائی جاتی تھی۔ہر شخص ” الحکم“ اور ” بدر میں شائع ھدہ ڈائری پڑھتا اور یوں محسوس کرتا کہ گویا وہ قادیان میں بیٹھا ہے اور اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت حاصل ہے لیکن اب جوں جوں جماعت بڑھ رہی ہے اخبارات کی طرف توجہ بہت کم ہو رہی ہے اور ایک خطرناک مرض ہے جس کا علاج بہت جلد ہونا چاہئے۔اس وقت ہماری جماعت میں جو دوست ان پڑھ ہیں وہ سب کے سب میاں شیر محمد صاحب والا عرفان نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ ہم ان پڑھ ہیں ہم اخبار منگوا کر کیا کریں اور جو پڑھے ہوئے ہیں اُن میں سے بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں اس بات کی توفیق ہی نہیں کہ ہم الفضل منگوا ئیں اور