انوارالعلوم (جلد 14) — Page 492
انوار العلوم جلد ۱۴ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۷ ء اور پھر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے حضور ڈال دیتا ہے۔ اس وقت اس کیلئے خدا تعالیٰ کی طرف سے تائید اور نصرت نازل ہوتی ہے۔ - حضرت خلیفہ اول قبض اور بسط کی ایک عجیب حالت کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔ پہلی بیوی سے آپ کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا را ہوا جو آپ کو بہت پیارا کو بہت پیارا تھا۔ اس وقت آپ اچھے عہدہ پر تھے، آسودگی تھی ، اس بچہ کی بہت خاطر کی جاتی تھی ۔ جب وہ کچھ بڑا ہوا تو ایک دن اس نے کہا گھوڑا بچہ لے دیں میں اس پر سوار ہوا کروں گا ۔ وہ کچھ بیمار تھا آپ اُسے دوائی دے کر مکان سے باہر آئے اور ایک آدمی کو بلا کر سمجھا رہے تھے کہ اس قسم کا گھوڑ ا خرید لاؤ کہ ایک لڑکی اندر سے آئی جس نے کہا لڑ کا فوت ہو گیا ہے۔ آپ نے جو دوائی اسے دی اس سے اسے اُچھو آ گیا اور اس کے ساتھ ہی اس کی جان نکل گئی ۔ آپ فرماتے ، اس وقت مجھے اتنا صدمہ ہوا کہ دماغ کی حالت محتل سی ہو گئی اور جب نماز کا وقت آیا، غالباً مغرب کی نماز کا وقت تھا کہ اس وقت طبیعت پر بڑا بوجھ تھا کہ اتنی دعائیں کیں مگر بچہ فوت ہو گیا ۔ آخر جب نماز کیلئے کھڑا ہوا اور سورہ فاتحہ پڑھنے لگا تو سخت قبض کی حالت تھی۔ میں نے سمجھا خدا تعالیٰ کہتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ " کہو مگر میں کس منہ سے کہوں ۔ ایک ہی بچہ تھا وہ بھی مر گیا ایسی حالت میں اگر میں الْحَمْدُ لِلَّهِ کہوں گا تو یہ منافقت ہوگی ۔ اس وجہ سے میں خاموش کھڑا رہا اور مقتدی حیران کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ اس کے بعد یکدم زور سے میں نے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کہہ کر سورہ فاتحہ پڑھنی شروع کر دی۔ نماز کے بعد مقتدیوں نے پوچھا آج کیا ہوا ۔ پہلے تو آپ خاموش کھڑے رہے پھر جھٹکا کے ساتھ سورہ فاتحہ شروع کی۔ اس پر آپ نے ان کو وہ کیفیت بتائی جس کی وجہ سے خاموش رہے۔ پھر فرمایا آخر مجھے خیال آیا نور الدین تجھے کیا معلوم کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر چور ہوتا یا فریبی ہوتا اس طرح تیرے لئے دُکھ اور رنج کا موجب بنتا۔ یہ خیال آتے ہی بے اختیار زبان سے الْحَمْدُ لِلَّهِ نکل گیا۔ تو موت بھی خدا تعالیٰ کا احسان ہی ہوتا ہے۔ تو قبض کی حالت کے متعلق مؤمن جب یہ سمجھتا ہے کہ یہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے نعمت ہے تو وہ فی الواقع نعمت ہی بن جاتی ہے۔ میں تمہیں ایک مثال سناتا ہوں شاید کبھی نہ کبھی ہر شخص سے یہ معاملہ پیش آیا ہو ، مجھ سے بھی ایسا ہوا ہے۔ بعض دفعہ ایک شخص کو کوئی چیز دیتے ہیں اور پھر بتاتے ہیں کہ فلاں کو دے آؤ ۔ مگر جلد بازی سے ادھر چیز دی جاتی ہے اور اُدھر لینے والا کہہ دیتا ہے جزاک اللہ آپ نے میرا بھی خیال رکھا ۔ اس وقت کیا کسی کو جرات ہو سکتی ہے کہ کہے یہ تمہارے لئے نہیں بلکہ کسی اور کیلئے ہے۔ نہیں