انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 474

انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض پیش نہیں کر سکتے کہ ہماری کتاب مکمل کتاب ہے تم اس کو تسلیم کر لو کیونکہ اس صورت میں وہ جواب دیں گے کہ جب تم لوگ خود اس کو اپنے لئے کافی نہیں سمجھتے اور بعض مواقع پر اپنے لئے اس کے بتائے ہوئے راستہ کے سوا اور راستہ تلاش کرتے ہو تو ہم کو کس منہ سے اس کی طرف بلاتے ہو۔دوسری بات جس کی طرف میں جماعت کو توجہ خلافت اسلام کا اہم جزو ہے دلانا۔چاہتا ہوں یہ ہے کہ موجودہ فتنہ خلافت کے خلاف ہے۔ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خلافت اسلام کا ایک اہم جزو ہے اور جو اس سے بغاوت کرتا ہے وہ اسلام سے بغاوت کرتا ہے۔اگر ہمارا یہ خیال درست ہے تو جو لوگ اس عقیدہ کو تسلیم کرتے ہیں ، ان کیلئے اَلْاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِه شے کا حکم بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔کیونکہ خلافت کی غرض تو یہ ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد عمل اور اتحادِ خیال پیدا کیا جائے اور اتحاد عمل اور اتحاد خیال خلافت کے ذریعہ سے سبھی پیدا کیا جا سکتا ہے، اگر خلیفہ کی ہدایات پر پورے طور پر عمل کیا جائے۔اور جس طرح نماز میں امام کے رکوع کے ساتھ رکوع اور قیام کے ساتھ قیام اور سجدہ کے ساتھ سجدہ کیا جاتا ہے، اسی طرح خلیفہ وقت کے اشارہ کے ماتحت ساری جماعت چلے اور اس کے حکم سے آگے نکلنے کی کوشش نہ کرے۔نماز کا امام جوصرف چند مقتدیوں کا امام ہوتا ہے جب اس کے بارہ میں رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جو اس کے رکوع اور سجدہ میں جانے سے پہلے رکوع یا سجدہ میں جاتا ہے یا اس سے پہلے سر اُٹھاتا ہے، وہ گنہگار ہے۔تو جو شخص ساری قوم کا امام ہو اور اس کے ہاتھ پر سب نے بیعت کی ہو، اس کی اطاعت کتنی ضروری سمجھی جائے گی۔چنانچہ رسول کریم ﷺ اسی اہمیت کو واضح کرنے کیلئے فرماتے ہیں کہ:۔الاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ تم اپنی انفرادی عبادتوں میں شریعت اسلامیہ کے مطابق جس طرح چاہو عمل کرو لیکن اپنی قوم کے مخالفوں کے مقابلہ کا جب وقت آئے ، اُس وقت تمہاری سب آزادی سلب ہو جاتی ہے اور تم کو حق نہیں پہنچتا کہ امام کی موجودگی اور آزادی کے وقت میں تم اس بارہ میں کوئی آزاد فیصلہ کرو بلکہ چاہئے کہ امام تمہارے لئے بطور ڈھال کے ہو۔جس طرح سپاہی ڈھال کے پیچھے چلتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں ڈھال سے اِدھر اُدھر ہوا اور مرا۔اسی طرح تم سب امام کے اشارہ پر چلو اور اس کی ہدایات سے ذرہ بھر بھی اِدھر اُدھر نہ