انوارالعلوم (جلد 14) — Page 433
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ کی نسبت بعض باتیں منسوب کیں جو سلسلہ پر حملہ بنتی تھیں اس پر میں نے اسے بلا اجازت قادیان آنے سے منع کر دیا، لیکن اس کے بعد وہ کئی دفعہ اجازت سے قادیان آ چکی ہے اور ابھی چند ماہ ہوئے اس نے مجھے لکھا کہ میں بیمار ہوں ، مجھے قادیان آ کر سید ولی اللہ شاہ صاحب کے ہاں رہنے کی اجازت دی جائے۔تو میں نے دفتر کو ہدایت کی کہ اسے اجازت دی جائے۔گو وہ بعد میں آئی نہیں نہ معلوم دفتر کا خط اسے نہیں ملایا اس نے ارادہ بدل دیا۔بہر حال اس معاملہ میں بھی میاں فخر الدین صاحب نے واقعات کو بالکل الٹ کر بیان کیا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ بوجہ اس کے کہ معاملہ ایک تیسرے شخص کے متعلق ہے ، میں تفصیل سے واقعات بیان نہیں کر سکتا۔عبدالرحمن کی ملازمت اب عبد الرحمن کی نوکری کا سوال رہ جاتا ہے۔ہمیں سندھ کی زمینوں کیلئے قومی اور مضبوط آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک سال پہلے تک اس جگہ ملازموں کی تلاش ہمارے لئے ایک تکلیف دہ سوال بن رہا تھا۔بہت سے لوگ وہاں جا کر گھبرا کر آ جاتے اور ہمارا روپیہ ضائع ہو جاتا۔صرف میری ہی زمینوں پر سے آٹھ دس آدمی بھاگ چکے ہیں اور اس طرح میرا چار سو روپیہ کے قریب ضائع ہو چکا ہے اس لئے وہاں ایسے آدمیوں کو چن کر بھجوایا جاتا ہے جو مضبوط اور محنت کش ہوں اور وہاں کی آب و ہوا میں گزارہ کر سکیں۔میاں عبدالرحمن چونکہ اچھی صحت کے آدمی ہیں میں نے ان سے کہا کہ اگر تم حساب رکھنے کا کام سیکھ لوتو تمہیں سندھ بھیجا جا سکتا ہے اور تم کو ۲۵ روپیہ ماہوار دیئے جائیں گے۔سندھ کیلئے ۲۵ روپیہ ماہوار اُس وقت کے لحاظ سے کوئی بڑی تنخواہ نہ تھی۔وہاں میرا ایک ملازم ہے۔پرائمری پاس بھی نہیں ہے مگر ۲۳ روپیہ ماہوار اور ایک من غلہ تنخواہ انہیں دی جاتی ہے جو چھیں روپے ماہوار سے زائد بنتے ہیں۔ایسا اس لئے ہوتا تھا کہ وہاں لوگ جانے کو تیار نہ ہوتے تھے کیونکہ آب و ہوا خراب تھی اور سانپ بھی شروع میں اس قدر کثرت سے ہوتے تھے کہ بعض دفعہ چھوٹے چھوٹے گاؤں میں دو دو تین تین کیس ہر ہفتہ ہو جاتے تھے۔وہاں کے ایک انجینئر کی نسبت ایک دوست نے سنایا کہ ایک دفعہ وہ کرسی پر بیٹھا کام کر رہا تھا کہ اس نے تھک کر پاؤں بوٹ سے باہر نکالے ایسا کرنا تھا کہ ایک سانپ نکل کر اُس کی طرف بڑھا اور وہ بمشکل بچا۔اب آبادی کی وجہ سے آب و ہوا بھی اچھی ہورہی ہے۔دوسرے آٹھ ماہ سے ہم