انوارالعلوم (جلد 14) — Page 432
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ مصری صاحب اور پھر سردار مصباح الدین۔میں اپنے خدا کو گواہ رکھ کر یہ باتیں لکھتا ہوں اور وہ دلوں کو خوب جانتا ہے۔یہ باتیں فخر دین نے میرے ساتھ کی ہیں اور میں خدا کو بھی گواہ رکھ کر شہادت لکھتا ہوں۔وَاللَّهُ شَهِيدٌ عَلَى مَا أَقُولُ حضور کا ادنی خادم محمد عمر اس شہادت سے مولوی عبد الاحد صاحب کے بیان کی پوری تصدیق ہو جاتی ہے۔اب آپ لوگ غور کر لیں کہ جو شخص اپنے گند اور بغض میں اس قدر بڑھ گیا ہو کہ جس کے ہاتھ پر اُس نے بیعت کی ہو، اس کی نسبت ایسے شرمناک لفظ استعمال کرے، وہ اخلاص اور ایمان کا دعویٰ کس بناء پر کر سکتا ہے۔اگر اسی کا نام ایمان اور اخلاص ہے تو موچی دروازے کے غنڈوں کو بُرا کہنا کسی طرح درست نہیں ہو سکتا۔اول فحش کلامی اور پھر خلیفہ وقت کی نسبت اور پھر یہ دعویٰ کہ تمام مظالم کے باوجود ہمارے ایمان اور اخلاص میں کوئی فرق نہ آیا تھا۔اس شہادت میں ایک اور بات بھی بیان کی گئی ہے جو تحریک جدید کے بورڈنگ کے متعلق ہے اور اسی طرح تحریک جدید کے وقف کنندگان کے متعلق ہے۔اس میں جس قدر شرمناک حملہ مجھ پر کیا گیا ہے، وہ میں نہیں سمجھتا کہ احراریوں کے حملوں سے یا دوسرے دشمنانِ سلسلہ کے حملوں سے کم ہو۔اگر ایسے لوگ احمدیت میں رہ سکتے ہوں تو میں سمجھتا ہوں کہ خلافت اور نظام سلسلہ سے بدتر اور بے معنی لفظ دنیا میں کوئی نہیں ہوسکتا۔اس سے یہ بہتر ہو گا کہ جماعت بے خلافت رہے تا لوگوں کو ایسے بے معنی نظام پر ہنسی اڑانے کا موقع تو نہ ملے۔مقبول کے اخراج کی حقیقت پھر میاں فخرالدین صاحب نے یہ اعتراض کیا ہے کہ مقبول ایک لڑکی کو بغیر تحقیق یہاں سے نکال دیا گیا ، اسی طرح ہمارے معاملہ میں کیوں نہ کیا گیا۔ایک تیسرے شخص کے حالات کو میاں فخر الدین صاحب کی تحریر کی وجہ سے میں پبلک میں نہیں لاسکتا۔مگر اس قدر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس بیتیم لڑکی کا بعض لوگوں سے بعض باتوں پر تنازعہ ہو گیا اور اس نے خود مجھ سے کہا کہ اب میں قادیان میں نہیں پڑھ سکتی ، میں نے اس کو سمجھایا مگر اس نے نہیں مانا، اس پر اس کی اپنی خواہش پر میں نے اس کا انتظام سیالکوٹ کر دیا جہاں اس کی بعض سہیلیاں رہتی تھیں۔لیکن اس کے بعد وہاں کی جماعت کی لجنہ کی پریذیڈنٹ سیدہ فضیلت صاحبہ اور بعض اور مخلص مستورات نے اس