انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 427

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف ۔۔۔۔۔۔ میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ گو میری تحریرات اگر محفوظ رہتیں تو اس سے زیادہ واضح تھیں مگر یہ بیان بھی بہت کافی ہے۔ نیر صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ اس معاملہ میں اُن کو آڑ نہیں بنایا گیا بلکہ سب ذمہ داری اُن کی تھی بلکہ میاں بشیر احمد صاحب کی معرفت اس بارہ میں اُنہیں ایک حد تک روکا بھی گیا لیکن چونکہ اور کوئی انتظام نہ ہو سکتا تھا ، انہوں نے باوجود ڈاکٹر احسان علی کے انکار کے انہیں اس کام پرج پر مجبور کر کے لگایا اور یہ کہ اُس وقت کی قیمتوں کے لحاظ سے جو ریٹ طے کیا گیا تھا وہ درست تھا۔ اب کجا نیر صاحب کا یہ حلفیہ بیان اور کجا اس شخص کا یہ الزام کہ ٹھیکہ میں نے احسان علی کے فائدہ کیلئے دلایا، نیر صاحب کو صرف آڑ بنایا گیا، بٹالہ کی ایک کمپنی سستا پٹرول دیتی تھی مگر اس سے نہ لیا گیا اور احمدی ٹھیکیدار ملتے تھے اُن کو بھی رڈ کیا گیا۔ جو شخص اس قدر افتراء اس شخص پر کرے جس کی اس نے بیعت کی ہوئی ہے کون بتا سکتا ہے کہ اس کے دل میں کس قد ر بغض اور کینہ بھرا ہوا ہوگا ۔ ۔ ایک الزام میاں فخرالدین صاحب نے یہ لگایا ہے کہ ایک دفعہ محمد الحق صاحب سیالکوٹی سپرٹ بغیر لائسنس لے آئے اور احسان علی نے ان کی شکایت کر کے انہیں پکڑوا دیا۔ تو احسان علی صاحب پر پانچ روپیہ مجرمانہ ہوا لیکن احسان علی نے کہا کہ حضرت صاحب کو اس کا علم نہ ہوا ہو گا کہ میں نے ایسا کیا ہے ورنہ وہ ایسا نہ کرتے چنانچہ وہ مجرمانہ وصول نہ ہوا ۔ یہ الزام سراسر بہتان اور جھوٹا ہے مجھے شروع سے یہ علم دیا گیا تھا کہ احسان علی صاحب نے رپورٹ کی ہے۔ حق احسان علی صاحب کی طرف تھا کیونکہ اُن کے پاس سپرٹ کا لائسنس تھا۔ لیکن محمد الحق صاحب کا بھی کوئی قصور نہ تھا کیونکہ وہ اپنے لئے نہیں بلکہ ہائی سکول کے سائنس کے تجربات کے استعمال کیلئے غلطی سے سپرٹ لاتے تھے۔ میں نے اس پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے معاملہ میں حق کا استعمال بھی غلطی ہے باہمی سمجھوتہ کرنا چاہئے تھا۔ اور محکمہ نے احسان علی صاحب پر پانچ روپیہ جرمانہ کیا جو ناظر صاحب امور عامہ کی رپورٹ کے مطابق اُسی وقت وصول ہو گیا تھا۔ یہ جرمانہ اس مجرمانہ کی ادائیگی کیلئے تھا جو میاں محمد اسحق صاحب کو سرکاری عدالت سے ہوا تھا اور اس وجہ سے انہی کو دیئے جانے کا فیصلہ ہوا تھا۔ میاں محمد اسحق صاحب سے بھی میں نے گواہی لی ہے وہ لکھتے ہیں:۔ اس معاملہ کے متعلق مرکز سلسلہ عالیہ احمد یہ میں تحقیقات ہو کر احسان علی پر اُسی قدر مجرمانہ کیا گیا تھا جتنا میں نے عدالت سرکاری میں دیا تھا۔ چنانچہ اس مجرمانہ کی فوری ادائیگی