انوارالعلوم (جلد 14) — Page 424
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف ۔۔۔۔۔۔ میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ اس کے بعد سید منظور علی شاہ سید منظور علی شاہ صاحب کا حلفیہ بیان صاحب کا مالی بیان کیا گیا۔ اور انہوں نے یہ حلفی بیان دیا کہ مجھے ڈاکٹر احسان علی کے والد صاب نے کہا تھا کہ لڑکے کی ضمانت دے دو۔ میں نے کہا کہ چھٹی کے سلسلہ میں پہلے ہی مجھ پر ایک محکمانہ مقدمہ چل رہا ہے اور مجھے چھٹی نہیں مل سکتی ۔ اگر آپ رُخصت کا انتظام کر دیں تو میں ضمانت کیلئے جا سکتا ہوں ۔ چنانچہ وہ حضرت میاں صاحب کے پاس جا کر چھٹی لے آئے اس پر میں میاں صاحب کے پاس گیا اور کہا کہ یہ چھٹی انہوں نے ضمانت کیلئے مجھے دلوائی ہے، کیا مجھے اجازت ہے کہ ضمانت دے دوں؟ میاں صاحب نے فرمایا کہ انہوں نے مجھے یہ تو بتایا نہیں ۔ یہ امور عامہ کا کام ہے آپ ناظر صاحب امور عامہ سے دریافت کر لیں اگر وہ اجازت دیں تو ضمانت دے دیں اِس پر میں نے ناظر صاحب امور عامہ سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ ضمانت دینے میں کوئی حرج نہیں ۔ ان بیانات سے ثابت ہے کہ میاں صاحب نے جب چھٹی دی اُن کو یہ علم تک نہ تھا کہ ضمانت کیلئے یہ چھٹی مانگی جا رہی ہے۔ اور اس وجہ سے ان پر یہا یہ الزام سراسر با سراسر باطل ہے اور اسی بدظنی پر دلالت کرتا ہے جو ان لوگوں کے دلوں میں کھن کی طرح ان کے ایمان کو کھا رہی تھی ۔ نوے روپے کا معاملہ پھر دیکھا ہے کہ عبدالمنان کے چوری کرنے کے بعد قادریان سے روپوش ہونے پر احسان علی نے نوے روپیہ مسروقہ مال کے اس سے لے کر حضرت میاں صاحب کے پاس رکھے، یہ کہہ کر رکھے کہ یہ مسروقہ مال ہے کیونکہ ڈاکٹر صاحب کے چوری شدہ مال میں -/۹۰ روپے بھی تھے ۔ اس سے قبل میں خود حضرت میاں صاحب کو اس واردات کی سراغرسانی کیلئے مفصل عرض کر چکا تھا ، چاہئے تھا کہ حضرت میاں صاحب مجھے یا مصری صاحب سے کم سے کم ذکر ہی فرما دیتے کیونکہ تفتیش میں یہ بہت بڑا معاون بنتا مگر آخر دم تک جبکہ احسان علی نے ضرورتاً اپنے ڈیفنس کی خاطر اس کا بیان کرنا ضروری سمجھا ، بالکل مخفی رکھا اور اشارتاً بھی ذکر نہ کیا ۔“ حضرت مرزا شریف احمد صاحب کا حلفیہ بیان سے متعلق حضور نے حضرت میاں صاحب کو بُلا یا کہ اس واقعہ کے متعلق حلفی بیان دیں۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ ڈاکٹر احسان علی نے