انوارالعلوم (جلد 14) — Page 414
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ مستورات کو بد نام کرنے کے خلاف کارروائی اسی دوران میں مجھے مصری صاحب نے کہا کہ چونکہ یہ لوگ بعض باتیں مستورات کو بد نام کرنے والی کہتے ہیں ، ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنی چاہئے۔میں نے ان سے کہا کہ جو روایات اس وقت تک مجھ تک پہنچی ہیں ، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود الزام نہیں لگاتے بلکہ ملزم کی طرف سے کہتے ہیں کہ وہ یہ ڈیفنس پیش کرتا ہے اس لئے اس امر کی تحقیق کا وقت نہیں ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ ہم ڈیفنس میں روک ڈالتے ہیں۔میں نے مزید احتیاط کے طور پر شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ سے مشورہ لیا کہ آیا ملزم کی طرف سے ایسی باتیں ہوں تو ہمارا مقدمہ کے فیصلہ سے پہلے کوئی قدم اُٹھانا پولیس کو یہ کہنے کا موقع تو نہیں دے گا کہ پولیس کی تفتیش کو خراب کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت جو حکام کا رویہ ہے اور عطاء اللہ شاہ بخاری کے مقدمہ میں جماعت پر جس طرح اپنی عدالتیں جاری کرنیکا الزم ثابت کرنیکی کوشش کی گئی ہے اس کے لحاظ سے میں یہی کہوں گا کہ اس وقت کوئی قدم اُٹھانا بہت مضر ہو گا اسلئے احتیاط ہی کرنی چاہئے۔(اس موقع پر حضور نے شیخ صاحب جناب شیخ بشیر احمد صاحب کی شہادت موصوف کو کھڑا کر کے حلفی بیان لیا اور انہوں نے حلفیہ شہادت دی کہ یہ درست ہے میں نے یہی جواب دیا تھا ) اس کے بعد مصری صاحب کا بڑا لڑکا جس کی ساس کے ہاں چوری ہوئی تھی ایک روز میرے پاس آیا اور دروازہ پر دستک دی۔میں دروازہ پر اس سے ملنے کے لئے گیا تو اس نے کہا کہ ڈاکٹر احسان علی کا بھائی عبدالرحمن بہت بُری بُری باتیں کہتا ہے۔مگر آپ کوئی کارروائی ان کے خلاف نہیں کرتے اور ان کی رعایت کرتے ہیں۔اس بات پر اگرچہ میرا حق تھا کہ میں اسے سزا دیتا کہ اس نے میرے منہ پر یہ کہا کہ گویا میں انصاف نہیں کرتا اور رعایت کرتا ہوں مگر اس خیال سے کہ ان کے دل دُکھے ہوئے ہیں میں نے اس بات کو نظر انداز کر دیا۔اور صرف اسے یہ کہا کہ مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ عبدالمنان ملزم یہ باتیں کہتا ہے کہ فلاں طریق سے یہ مال نکالا گیا ہے اور ملزم کو قا نو نا حق ہے کہ دوران مقدمہ جو بیان چاہے دے اور اگر ہم اسے روکیں تو حکومت کی طرف سے الزام آتا ہے۔جس قدر نصیحت کا تعلق ہے ہم اسے کر چکے ہیں اور شیخ بشیر احمد صاحب کی رائے بھی یہی ہے کہ ہمیں فی الحال کوئی کارروائی نہیں کرنی چاہئے اس