انوارالعلوم (جلد 14) — Page 409
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف ۔۔۔۔۔۔ میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ دیتا ہے تو میں تو یہی سمجھوں گا کہ دوسرے لو گا کہ دوسرے لوگوں نے اسے یہ پٹی پڑھائی ہے اور اگر اس نے کوئی ا ایسی بات کی تو میں بہت سختی سے نوٹس لوں گا ۔ پھر میں نے کہا کہ یہ چیزیں اس کے پاس سے نکلی ہیں ، اس لئے ہمارے نزدیک وہی ذمہ دار ہے ۔ یہ باتیں میں نے اس قدر سختی سے کیں کہ احسان علی کے ہونٹ خشک اور چہرہ زرد ہو گیا۔ اور ڈر کے مارے اُس کے منہ سے بات نہ نکلتی تھی۔ میں نے اسے یہ بھی کہا کہ میں ان بدنامی کی باتوں سے نہیں ڈرتا ، میں ان باتوں کی پرواہ نہیں کروں گا اور پوری طرح صداقت کو ظاہر کروا کے چھوڑوں گا اور یہ کہہ کر انہیں رخصت کر دیا۔ اس کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ملزم اب تک بیان بدل رہا ہے ۔ اس پر میں نے علیحدہ طور پر بھی اور ایک دعوت ولیمہ کے موقع پر بھی جو غالباً میاں محمد الدین صاحب واصل باقی نویس کھاریاں کے کسی لڑکے کی شادی کے موقع پر ہوئی تھی ، ناظر صاحب امور عامہ سے مجلس میں کہا کہ آپ عبدالمنان کے والد اور بھائی کو بُلا کر کہہ دیں کہ اگر وہ سچا بیان نہ دے گا تو بھی وہ بچ نہیں سکتا پھر اس کا معاملہ خدا تعالیٰ اور سلسلہ سے ہوگا ۔ چنانچہ ناظر صاحب نے ڈاکٹر فیض علی صاحب کو بُلا کر سمجھایا جس پر ڈاکٹر صا۔ ڈاکٹر صاحب مولوی ظفر محمد صاحب کے ساتھ تھانے گئے اور وہاں جا کر بہ روایت مولوی ظفر محمد صاحب اپنے بیٹے کو سمجھایا کہ دیکھو! خدا تعالیٰ کی خوشنودی کو مد نظر رکھو اور جو سچ ہو وہ کہو ، تا کہ مزید عذاب میں مبتلا نہ ہو اور ایمان ضائع نہ ہو۔ پولیس کو اطلاع اس کے بعد مجھے علوم ہوا کہ بعض لوگ جا کر پولیس والوں سے کہتے ہیں کہ ملزم میرا رشتہ دار ہے اور کہ اس کی گرفتاری میری ناراضگی کا موجب ہو گی ۔ اس پر میں نے وہ کام کیا جو ساری عمر میں کبھی نہیں کیا۔ یعنی میں نے انچارج صاحب چوکی کو کہلا بھیجا کہ اگر وہ مہربانی کر کے مجھ سے آکر ملیں تو میں ممنون ہوں گا ۔ چنانچہ وہ تشریف لے آئے اور میں نے اُن سے کہا کہ میں نے سنا ہے اور آپ کی طرف سے مجھے یہ اطلاع بھی کئی دفعہ ملی ہے کہ آپ انصاف کے معاملہ میں جماعت سے تعاون کرنے کو تیار ہیں ۔ اب اِس وقت یہ معاملہ در پیش ہے ، ملزم کے متعلق میں نے سنا ہے کسی نے آپ سے کہا ہے کہ وہ میرا رشتہ دار ہے ۔ اوّل تو اس کے ساتھ میری کوئی ایسی رشتہ داری نہیں لیکن اگر ہو بھی تو اس مقام پر اگر میرا اپنا بیٹا بھی ہو تو میں اس کی پرواہ نہیں کروں گا ، وہ ہمارے سامنے چوری کا اقرار کر چکا ہے ، اب آپ لوگوں کا کام ہے کہ اس کے خلاف اس طرح کارروائی کریں کہ وہ