انوارالعلوم (جلد 14) — Page 403
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف۔۔۔۔میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ کے بعد احسان علی صاحب نے اپنے بھائی کے بچانے کی کوشش کی مگر یہ تو دنیا کے اکثر لوگ کرتے ہیں اور کوئی انہیں چور نہیں قرار دیتا۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ احسان علی صاحب کا خود چوری میں کسی قسم کا دخل نہ تھا اور کسی مرحلہ پر بھی مجھے ان کے متعلق یہ وہم نہیں ہوا کہ وہ چوری میں شریک تھے اور میں نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ چوری کے معاملہ میں احسان علی ملوث ہے۔یہ محض افتراء ہے ، خواہ مصری صاحب نے کیا ہو یا ملتانی صاحب نے ، ان کی طرف خود بات بنا کر منسوب کر دی ہو۔یہ چوری کا واقعہ غالبا فروری ۱۹۳۶ء کا ہے جب میں سندھ میں تھا۔چوری کا واقعہ واپس آنے پر مجھے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر فضل دین صاحب کے ہاں چوری ہو گئی ہے۔میں نے اس کے متعلق تحقیقات شروع کروائی اور اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے امور عامہ کی معرفت ان کے گھر سے دریافت کروایا کہ انہیں کسی پر شبہ تو نہیں۔ان کی طرف سے مصری صاحب یا ملتانی صاحب نے امور عامہ کو بتایا کہ شمس الدین پسر احمد دین صاحب زرگر جو اہلیہ ڈاکٹر فضل دین صاحب کی بہن کا لڑکا ہے ،صرف اسے گنجیوں کا پتہ تھا اور تالا ایسا ہے کہ جس کے کھولنے کی خاص ترکیبیں ہیں اور کنجی کے اندر ایسی حرکت رکھی گئی ہے کہ جب تک وہ نہ ہو نجی لگتی ہی نہیں۔شمس الدین چونکہ گھر میں آتا جاتا تھا، اس لئے ہم خیال کرتے ہیں کہ اس کے سامنے چونکہ تالا کھولا جاتا تھا، اُسے علم ہو گیا ہوگا۔چنانچہ شمس الدین کے خلاف کارروائی شروع ہوگئی اس پر اس کی والدہ روتی ہوئی میرے پاس آئی اور کہا کہ اس کے لڑکے پر خواہ مخواہ الزام لگایا گیا ہے ، وہ تو اُس وقت گھر میں تھا غالبا وہ جمعہ کا دن تھا۔اس نے کہا میں نے اسے بھیجا کہ جا کر نماز پڑھے وہ اُٹھ کر گیا اور اُسی وقت واپس آ گیا کہ نماز ہوگئی ہے اس طرح گویا وہ آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوا اور بہنوں کی رنجش کی وجہ سے ہم تو ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے بھی نہیں۔وہ بہت روئی مگر میں نے اسے کہا کہ ہم تحقیقات تو نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ صاحب خانہ کا بیان ہے کہ تالا ایسا تھا جسے واقف کے سوا کوئی نہیں کھول سکتا۔اول چور نے کبھی تلاش کی ہے، پھر اُس نجی کو جس کے لگانے میں خاص راز ہے صحیح طور پر استعمال کیا ہے۔پس کنجی رکھنے کی جگہ کا علم ہونا اور پھر نجی کے استعمال کا علم ہونا، صاحب خانہ کے نزدیک ایسے شخص پر دلالت کرتا ہے جو گھر کا راز دان ہو۔ان حالات میں ان کا شبہ اگر میاں شمس الدین پر ہو تو خواہ غلط ہو، ہمیں تحقیق پر مجبور کرتا ہے لیکن اگر تم خیال کرتی ہو کہ تمہارا لڑکا مجرم نہیں تو تم