انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 401

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف ۔۔۔۔۔۔ میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ زیادہ دفعہ کہہ چکے تھے ۔ وہ اپنے ایک خط میں میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب کو لکھتے ہیں ۔ لو آج میں آپ کو کہتا ہوں کہ قاضی اکمل کے فیصلہ کے وقت ہی میں اپنے اخراج کو بھی بھانپ گیا تھا۔ اور اسی وقت میں نے قاضی صاحب کو کہہ دیا تھا کہ اب میری باری ہے ۔“ 66 اس فقرہ سے ظاہر ہے کہ میاں فخرالدین اپنے دلی خیالات کی وجہ سے دیر سے اپنے اخراج کے امیدوار تھے اور اس کا اظہار کر چکے تھے مگر باوجود اس کے اپنے حلفیہ بیان میں وہ اس امر کا انکار کرتے ہیں اور اپنے نفس کو تسلی دلانے کیلئے انکار کے آگے کسی خطبہ کے متعلق نہیں کہا“ کے الفاظ بڑھا دیتے ہیں ۔ حالانکہ گواہ نے یہ صرف کہا تھا کہ انہوں نے یہ فقرہ کہا تھا ، کہ اب ہمارے تھوڑے دن رہ گئے ہیں ۔ اور اس سے میں نے یہ سمجھا کہ خطبہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں ۔ پھر لطیفہ یہ ہے کہ میاں فخرالدین اپنے اوپر سی ۔ آئی ۔ ڈی دل میں چور کا ثبوت مقرر ہونے کا ثبوت یہ دیتے ہیں کہ مولوی عبدالاحد صاحب، مولوی تاج الدین صاحب اور ماسٹر غلام حیدر صاحب باہم سرگوشیاں کیا کرتے تھے ۔ مگر یہ ثبوت تو جرم کی نفی کرنے کی بجائے جُرم کو ثابت کرنے والا ہے کیونکہ ایسی باتیں تبھی دل میں پیدا ہوتی ہیں جب دل میں جرم ہو۔ کہتے ہیں کسی برہمن سے گائے کی بچھیا مرگئی اور چونکہ ہندو مذہب میں یہ ایک بہت بڑا جرم ہے اور برہمن سے گائے مرے تو اس کی سزا موت ہے۔ اس نے خیال کیا کہ لوگوں کو جب اس کا علم ہوگا ، وہ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے اس لئے گھر کو تالا لگا کر بھاگ کھڑا ہوا۔ لیکن دل پر خوف اس قدر طاری تھا کہ جہاں دو آدمیوں کو باتیں کرتے دیکھتا خیال کرتا کہ شاید ان کو میرے جُرم کا پتہ لگ گیا ہے اور میرے ہاتھ سے بچھیا مر جانے کا ذکر کر رہے ہیں ۔اس خیال کی وجہ سے گھبرایا ہوا اُن کے پاس جاتا اور پوچھتا کہ آپ کیا باتیں کر رہے تھے ۔ وہ جواب دیتے کہ کچھ نہیں ، ہم آپس میں کوئی اپنی بات کر رہے تھے تمہارے متعلق کوئی بات نہیں کر رہے تھے ۔ وہ کہتا کہ میرا نام تو آپ نے لیا تھا اور بچھیا بچھیا کہہ کر آپ کچھ باتیں کر رہے تھے ۔ پھر وہاں سے آگے چلتا اور پھر جو آدمی باتیں کرتے ہوئے نظر آتے ، سے اسی قسم کی بات کرتا۔ آخر لوگوں کے دلوں میں شک پیدا ہوا اور شہر سے نکلنے سے پہلے لوگ اسے پکڑ کر اس کے گھر لائے اور بچھیا مری ہوئی گھر سے مل گئی اور اُسے سزا مل گئی ۔ اسی ان طرح ان صاحب کے دل میں چونکہ باغیانہ خیالات تھے اور خلیفہ وقت کے خلاف بدظنی کے