انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 397

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ بھائیوں نے یہ کیا کہ میاں بشیر احمد صاحب نے احسان علی کو مقدمہ کیلئے قرض دیا اور سید منظور علی شاہ صاحب کو عبدالمنان کی ضمانت دینے کیلئے سکول سے چھٹی دلوا کر گورداسپور بھیجا، میاں شریف احمد صاحب نے یہ سلوک کیا کہ احسان علی نے ان کے پاس نوے روپے مال مسروقہ کے نکلوا کر بھجوائے لیکن انہوں نے باوجود علم کے کہ چوری میں نوے روپے بھی تھے ، ہمیں علم تک نہ دیا اور آخر تک مخفی رکھا جب تک کہ احسان علی نے اسے بطور ڈیفنس کے پیش نہ کیا۔پھر جیسا کہ احسان علی نے امور عامہ میں تحریر دی تھی میاں شریف احمد صاحب نے اسے مشورہ دیا کہ فوراً جا کر راجہ عمر دراز صاحب تھانیدار کو قابو کر لو۔آگے لکھا ہے دروغ بر گردن راوی، جس پر معاملہ ٹھنڈا کر دیا گیا اور ہمیں ناظر امور عامہ سے مل کر سپر نٹنڈنٹ پولیس سے شکایت کرنی پڑی۔پھر جب عبدالرحمن برادر احسان علی کا نام چوری میں شرکت کے بارہ میں لیا گیا تو ہمیں ہدایت بھجوائی گئی کہ اگر کسی کو مشتبہ قرار دے کر اسے چور ثابت نہ کر سکے تو سخت نوٹس لیا جائے گا۔ان تمام واقعات اور حالات کو مدنظر رکھ کر ایک انسان جو حضرت صاحب اور حضرات میاں صاحبان اور نظارت امور عامہ پر کافی اعتماد رکھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ یہ مقدس ہستیاں کبھی بھی چوروں کا ساتھ دینے کو تیار نہ ہوں گی، بلکہ مظلوموں، بیکسوں اور بے گناہ دوستوں کی ہر ممکن امداد کریں گی ، ایسے انسان کو اس قسم کے غیر متوقعانہ امتیازی سلوک سے رنج پہنچنا اور اس کے احساسات کو دھکا لگنا فطرتی امر ہے“۔بعد کی تحریر کا خلاصہ یہ ہے کہ اس پر بھی ہم نے حُسنِ ظنی قائم رکھی لیکن مقدمہ کے بعد بھی خاموشی ہے اور ہمارے صبر کا صلہ یہ مل رہا ہے کہ ہم پر سی۔آئی۔ڈی مسلط کر دی گئی ہے۔احسان علی پر ڈاکٹر اسمعیل نے الزام لگائے تو اس کی امداد کیلئے روپیہ خرچ کیا گیا مگر مظلوم لڑکیوں اور عورتوں پر گندے اور جھوٹے الزامات کی رپورٹیں حضرت صاحب تک پہنچتی ہیں، اڑھائی تین ہزار کی چوری ہوتی ہے لیکن اس کیلئے نظام سلسلہ کے ماتحت بھی سزا نہیں دی جاتی۔بلکه برعکس ان مظلوم عورتوں کی عفت کی حفاظت کرنے والوں کے خلاف منافقت کا پروپیگنڈا کر کے انہیں بدنام کیا جاتا ہے اور چھوٹے چھوٹے الزام لے کر کہا جاتا ہے کہ گویا ہم حضرت صاحب اور نظام سلسلہ کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔بے تکلفانہ انداز میں میرے جیسے بے تکلف آدمی کے منہ سے صد ہا ایسی باتیں نکلتی ہیں جنہیں معمولی عقل کا آدمی بھی کوئی وقعت نہیں دیتا۔