انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 392

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ ہو جائیں کسی صحابی نے یہ نہیں کہا کہ تمہارا یہ مطالبہ اس لئے ناجائز ہے کہ شرعاً خلیفہ معزول ہو ہی نہیں سکتا۔۵۔یہ بات اسی طرح غلط مشہور ہو گئی ہے جس طرح یہ کہ خلیفہ کا جنازہ خلیفہ ہی پڑھ سکتا ہے۔حالانکہ حضرت عمرؓ کا جنازہ حضرت عثمان نے نہ پڑھا تھا۔آخر پر یہ اعتراف کرنے کی جرات کرتا ہوں کہ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کو میں اپنے زمانہ طالب علمی سے جانتا ہوں، شروع شروع میں سالہا سال تک ان کے میرے ساتھ گہرے تعلقات رہے ہیں، ان کے بعض مجھ پر احسان ہیں، حُسنِ سلوک سے پیش آتے رہے ہیں میں نے دیکھا ہے کہ وہ بات کرنے میں بڑے ہی محتاط اور ہوشیار واقع ہوئے ہیں۔مگر اب اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ ایک معمولی احمدی بھی ایسی باتیں نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ان کے اس انقلاب کا اصلی باعث کیا ہے۔پچھلے دنوں میں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ وہ احمد یہ بازار میں کھڑے ہیں، منہ فق اور خشک ہو گیا ہے، ہونٹوں پر بار بار زبان پھیرتے ہیں گھبرائے ہوئے ہیں، بار بار تھوکتے ہیں، پگڑی بھی گلے کی طرف ڈھلکی ہوئی ہے۔خواب میں، میں نے تعجب کیا کہ ان کو کیا ہو گیا ہے۔پاس ان کا ایک چھوٹا لڑکا بھی کھڑا ہے۔وَاللهُ تَعَالَى اَعْلَمُ والسلام خاکسار حضور کا ادنی ترین خادم تاج الدین لائل پوری ۲۰۔اپریل ۱۹۳۷ء جب یہ خط مجھے ملا تو میں نے فوراً لکھا کہ اس کی تحقیقات کی جائے اور فخر دین صاحب ملتانی کا بیان لیا جائے۔چنانچہ ان کا بیان لیا گیا جس کے ضروری حصے یہ ہیں۔میں آپ کے سوالات کا جواب اللہ تعالیٰ کی میاں فخر الدین صاحب کا بیان قسم کھا کر جو مجھے سی صحیح یاد ہے دیتا ہوں۔ا۔احسان علی وغیرہ کے الزامات کے متعلق جن ذمہ دار لوگوں کو باز پرس کرنی چاہئے تھی انہوں نے نہیں کی۔۲۔ذمہ دار سے مراد نظارت امور عامہ حضرت صاحب کی طرف سے ہیں۔۳۔ہم نے باز پرس کرانے کیلئے اس لئے ضرورت نہیں سمجھی کہ ہم سے متعدد مرتبہ