انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 390

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ نہیں۔کہنے لگے ہاں گزارہ ہو گیا ہے۔اس مضمون میں چونکہ حضرت امیر معاویہ ہی کی مثال تھی اس لئے میں نے حضرت امیر معاویہ کے متعلق کہا کہ وہ بڑے سیاستدان اور دُوراندیش تھے۔اسی ذکر میں میں نے یہ بھی ذکر کیا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے خلاف بھی انہوں نے بڑا ہنگامہ بر پا کر رکھا تھا۔مثلاً وہ حضرت علیؓ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ حضرت عثمان کے قاتلوں سے بدلہ لیا جائے اور کم از کم یہ کہ ان لوگوں کو حضرت علیؓ اپنے ساتھ نہ رکھیں ، اپنی فوج سے الگ کر دیں اور نہ سمجھا جائے گا کہ حضرت علی ان کی حمایت پر ہیں۔حضرت علی بہت کہتے کہ فتنہ سخت ہے، آپ ساتھ ہو جائیں، استحکام امر پر اس معاملہ میں دخل دیا جا سکے گا۔مگر حضرت امیر معاویہؓ اپنی ہی بات پر اڑے رہے کہ ان سرکشوں کو الگ کریں اور ان سے قصاص لیں۔اس پر بابوفخر دین کہنے لگے کہ ہاں حضرت معاویہ کی بات مؤثر تو تھی اور یہی تو ہم کہتے ہیں۔میں ان کی اس بات کا مطلب بالکل نہ سمجھا۔آخر کہنے لگے کہ شیخ احسان علی اور اُس کا بھائی عبد الرحمن صریح طور پر مجرم ہیں۔عبدالرحمن نے جھوٹی گواہی عدالت میں دی ہم پر افتراء اور بہتان باندھے ، شریف آدمیوں کی عزت پر حملے کئے ، پاکدامن عورتوں کی عزت پر حملے کئے مگر ان کو پوچھا تک نہیں بلکہ پٹرول کا ٹھیکہ ان کو دے دیا ہے۔اور فلاں سے ہٹا کر ( غالبا سیالکوٹ ہاؤس کا نام لیا تھا اچھی طرح یاد نہیں رہا) دیا ہے اور ان سے مہنگا دیا ہے۔پھر عبدالرحمن کو جو نالائق اور نکتا آدمی ہے، دفتر تحریک جدید میں رکھ لیا ہے۔دوسروں کی عورتوں اور لڑکیوں کی کوئی عزت ہی نہیں سمجھی جاتی۔یہ بڑے جوش اور زور زور سے کہنے لگے۔میں نے کہا کہ آپ کو اگر کوئی شکایت ہے تو ان پر دعوی دائر کریں۔پوچھا کہاں؟ میں نے کہا۔امور عامہ میں یا قضاء میں یا حضرت صاحب کی خدمت میں۔کہنے لگے کہ میں تو اس میں اپنی ہتک سمجھتا ہوں۔کیا ہم اور بے عزت ہوں۔غالباً یہ بھی کہا کہ ہمیں انصاف کی توقع نہیں اور یہ بھی کہا کہ میں ایسے دعووں پر یا کہا کہ ایسی درخواستوں پر جوتے مارتا ہوں اور یہ بھی کہا کہ کئی سالوں تک مارے مارے پھرو کبھی فلاں جگہ پھر فلاں جگہ۔میں نے کہا کہ سرکاری عدالتوں میں بھی تو آخر مختلف جگہوں پر اپیلیں کرنی ہی پڑتی ہیں۔یہ بھی کہا کہ ہمیں دعویٰ کرنے کی کیا ضرورت ہے ان کو پتہ نہیں ؟ بلکہ وعدہ کیا گیا تھا کہ مقدمہ کا فیصلہ ہونے پر پھر ان سے پوچھا جائے گا۔میں نے کہا کہ کس نے وعدہ کیا تھا۔کہا یہی جو ذمہ وار ہیں امور عامہ حضرت صاحب۔پھر کہا کہ ڈاکٹر فضل دین افریقہ سے لکھ رہے ہیں کہ مجھے لکھا گیا تھا کہ بعد فیصلہ مقدمہ، کا رروائی