انوارالعلوم (جلد 14) — Page 384
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بعض ایسی ذمہ داریاں عائد کی ہیں کہ اگر نقصان کا یقین ہو تو بھی ان سے کو تا ہی جائز نہیں۔کیا جو سپاہی لڑائی میں جاتے ہیں ، ان کے نقصان کا احتمال نہیں ہوتا مگر کیا وہ کہا کرتے ہیں کہ بادشاہ اور وزراء وامراء تو گھروں میں بیٹھے ہیں ، اور ہم مارے جارہے ہیں۔تین چار دن ہوئے مجھے ایک ایسا شخص ملنے کیلئے آیا جو جماعت سے خارج تھا، اُس نے سوال کیا کہ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ مجھے جماعت سے کیوں نکالا گیا ؟ میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا اس کی کوئی وجہ بیان ہوئی تھی اُس نے کہا نہیں۔میں نے کہا کہ بس سمجھ لو، کوئی ایسی ہی وجہ تھی جس کا ظاہر کرنا مناسب نہ تھا۔وہ کہنے لگا کہ کیا مجھے ان مقدمات کے سلسلہ میں نکالا گیا تھا جو بعض لوگوں سے میرے چل رہے تھے۔میں نے اُسے بتایا کہ نہیں ان مقدمات کے متعلق تو میں سمجھتا ہوں تمہارا حق مارا گیا ہے۔اصل بات یہ تھی کہ تمہارے متعلق رپورٹ آئی تھی کہ چونکہ تم حاجت مند ہو ، پولیس کے بعض افسر یہ کوشش کر رہے ہیں کہ تمہیں خرید لیں اور قبرستان کے مقدمہ میں تم سے شہادت دلوائیں کہ مجھے جماعت نے بھیجا تھا کہ جا کر احراریوں کو مارو۔اُس نے کہا کہ بے شک مجھے بعض پولیس افسروں نے ایسا کہا تھا کہ پانچ سو روپے لے لو اور یہ شہادت دے دو مگر میں نے تو اُسے منظور نہیں کیا تھا، آپ کو مجھ پر اعتماد کرنا چاہئے تھا۔میں نے اُسے کہا کہ ایک طرف تو تم پر اعتماد کا سوال تھا اور دوسری طرف جماعت کے اعتماد کا سوال تھا۔اب بتاؤ، میں کسے قربان کرتا۔میں اس خبر کو 99 فیصدی جھوٹ سمجھتا تھا لیکن مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ تم اُن دنوں ابتلاء میں تھے، تم کو جماعت کے افراد سے بھی شکایت تھی اور محکموں سے بھی ، تم اس وقت سخت مالی مشکلات میں تھے اور روپیہ کے محتاج تھے۔پس ان حالات میں ڈر تھا کہ تم اس لالچ کی برداشت نہ کر سکو یا غصہ تمہارے دل پر قابو پالے۔پس ان حالات میں جبکہ میں تم کو کوئی مالی نقصان نہیں پہنچا رہا تھا کیونکہ تم ملازم نہیں تھے ، نہ کوئی تمہارا تجارتی کام تھا۔پس ان حالات میں جماعت کے وقار کو میں خطرہ میں نہیں ڈال سکتا تھا۔کیا تم نے نہیں پڑھا کہ جنگ عظیم میں جرمن یا دوسرے ممالک کیلئے لوگ کس طرح اپنے ملک اور قوم کیلئے اپنی جانیں قربان کرتے تھے ، اگر تمہیں قربانی کرنی پڑی تو کیا حرج ہے۔تم لوگ تو کہتے ہو کہ تمہاری جانیں سلسلہ کیلئے ہیں۔پس اگر جماعت کی خاطر تمہیں سزا دی گئی تو کیا ہوا۔اس پر اُس نے کہا کہ پھر کیوں مجھے یہ نہ بتا دیا گیا۔میں نے کہا اگر میں ایسا کرتا تو بے وقوفی کرتا کیونکہ اس صورت میں اصل غرض